قلم کار

قلم کار وہ ہے جو لفظوں کو بینائی دے ۔ جس کی تحریر سچ گوئی پر مبنی ہو ، جس کے الفاظ کی مہک تابندگی بخشے ،وہ مرقعء خیال ہو ،اس کے الفاظ احساس سے گندھے ہوں جو دلوں کو چھو جائیں۔ ایسے قلم کار اپنا کام کرتے جاتے ہیں ۔انھیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ ان کو سراہا جائے گا یا نہیں ؛ ایک وقت ایسا آتا ہے ان کی زندگی میں کہ وہ ہار اور جیت کو خاطر میں نہیں لاتے ان کے سامنے صرف نظریات ہوتے ہیں ؛خیال بڑا رکھنا ان کا خاصا ہوتا ہے ۔

نازیہ نزی

نعتِ رسولِ مقبول صلی الله علیہ وآلہ وسلم

جو کچھ ہم کام کرتے ہیں ، انھی کے نام کرتے ہیں
یہی خدام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

سنواریں قسمتیں سب کی ، اتاریں رحمتیں رب کی
چلو اک کام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

علی المشہود صلی اللہ ، علی المحمود صلی اللہ
ورودِ تام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

فرشتوں اور خدا کے ساتھ اگر پڑھنی ہو ہم کو نعت
تو اک اقدام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

سحر دم ذکرِ آقا سے بجھا کر پیاس ہم پیاسے
یوں اپنی شام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

تصور ہاتھ پھیلائے مکانِ دل میں جب آئے
تو ہم اکرام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

نبی کا فیض آتا ہے ، دلوں میں نور چھاتا ہے
خدا الہام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

سبھی دشمن سبھی پیارے ، تھکن سے چور ہیں سارے
بس اب آرام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

خدا کی یاد عزت ہے ، نبی کی نعت قسمت ہے
اسامہ! نام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں

محمد اسامہ سَرسَری

یو ٹیوب پر اپنی مصنوعات کا اشتہار دیں ۔ طریقہ ویڈیو میں دیکھیں۔

آپ سب کی دعاؤں سے میرا چینل الحمدللہ ترقی پذیر ہے ، مونیٹائز بھی ہوچکا ہے ، مگر کچھ دنوں تک مسلسل غور کرنے کے بعد اس نیتجے پر پہنچا ہوں کہ یوٹیوب کے اشتہارات میں چونکہ نیم برہنہ خواتین بکثرت موجود ہیں جنھیں دیکھنا بھی گناہ ہے اور دیکھنے کا ذریعہ بننا بھی گناہ ہے اس لیے محض اپنے اللہ کو راضی کرنے کی خاطر میں نے چینل کی مونیٹائزیشن بند کردی ہے۔
لیکن آپ بے فکر رہیے ، ویڈیوز کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ لغاتِ سرسری کے تحت ہر ہر لفظ پر ان شاء اللہ ایک ایک تفصیلی ویڈیو بنانی ہے ، اس کے علاوہ شعر و ادب ، نیز عربی ، فارسی ، انگریزی نیز درسِ نظامی کے علوم و فنون پر مشتمل ویڈیوز تسلسل کے ساتھ پیش کی جاتی رہیں گی۔
چونکہ ہر ویڈیو میں کئی گھنٹے صرف ہوتے ہیں اس لیے اب یہ سوچا ہے کہ اپنی ہر ویڈیو کے آغاز میں ایک اشتہار شامل کروں گا۔
اشتہار میں آپ اپنا نام بھی مشہور کروا سکتے ہیں ، اپنی مصنوعات اور کاروبار کا تعارف بھی کرواسکتے ہیں اور اپنے یوٹیوب چینل کو بھی پروموٹ کرواسکتے ہیں۔
اشتہار کی قیمت اتنی ہی لوں گا جتنے میرے چینل کے سبسکرائبرز کی تعداد ہے۔
اس سلسلے میں مزید بات چیت کرنے کے لیے میرے اس ای میل ایڈریس پر رابطہ کریں:
usamasarsari786@gmail.com

آؤ شاعری سیکھیں ! مگر کیسے ؟طریقہ ویڈیو میں دیکھیں


کتاب آؤ شاعری سیکھیں کا مختصر تعارف اور کورس کا طریقہ:
اس کتاب میں چند چیزیں ہیں:
(1) بیس اسباق
(2) علم قافیہ
(3) عیوبِ سخن
(4) ساٹھ سوالات اور ان کے تشفی بخش جوابات
(5) 31 مشہور و مستعمل بحریں اور ان پر کہی مشہور نظمیں اور نعتیں
(6) ریاضتِ شعری کی چند جھلکیاں
(7) تقطیع کی مثالیں
(8) اساتذہ کی جانب سے قیمتی نصیحتیں

قرآن مجید سے متعلق سوالات 2020

عزیز ساتھیو!

السلام علیکم،
آئیے قران کریم کے مہینے رمضان کی مناسبت سے کچھ معلومات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔ ہر روز ایک سوال کیا جائے گا اور یہ سلسلہ پچیس رمضان تک چلے گا۔ سب سے زیادہ درست جواب دینے والے دو ساتھیوں کو دو سو روپے کا موبائل بیلنس دیا جائے گا ۔ ان شاء الله

سوال نمبر : 1 :

سورۃ فاتحہ کا آغاز “الحمد لله رب العٰلمین “ سے ہوتا ہے۔ یہ بتائیں کہ کن سورتوں کا اختتام اس آیت پر ہوتا ہے۔

عربی گرائمر سیکھیے محمد اسامہ سرسری سے

علم الصرف اور علم النحو میں کیا فرق ہے؟ 

حروف کو ملا کر الفاظ کیسے بنائے جاتے ہیں  اس کا طریقہ علم الصرف سے پتہ چلتا ہے۔ 

جب الفاظ بن جائیں تو ان کو ملا کر مکمل بات بنانے کا طریقہ علم النحو سے پتہ چلتا ہے۔ 

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و جمال کا تذکرہ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چہرہِ انور:۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں: میں ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سرخ جوڑا پہنے چاندنی رات میں دیکھا، میں کبھی چاند کو دیکھتا کبھی آپؐ کے چہرہ انور پر نظر ڈالتا، بالاخر اس فیصلے پر پہنچا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاند سے کہیں زیادہ حسین ہیں۔
(دارمی ص ٣٠ ج ١) مستدرک حاکم ص ١٨٦ ج ٤
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ جب میری جنگِ تبوک میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے توبہ قبول ہوئی تو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور سلام کیا۔ میں نے دیکھا کہ آپؐ کا چہرہ مبارک مارے خوشی کے چمک رہا ہے اور آپؐ جب خوش ہوتے تو آپؐ کا چہرہ ایسے دمک اٹھتا گویا چاند کا ایک ٹکڑا ہے۔
(صیح البخاری ص ٥٦٥ جلد ٦٦)
دلنشین آنکھیں:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں سرمگیں تھیں تم دیکھتے تو کہتے کہ آپؐ نے آنکھوں میں سرمہ لگا رکھا ہے حالانکہ سرمہ نہ لگا ہوتا۔
(مسند امام آحمد ص ١٩٧ ج ٥)
حضرت امِ معبد رضی اللہ تعالٰی عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ آپؐ کی آنکھیں انتہائی سیاہ اور کشادہ تھیں۔
(مستدرک حاکم ص ١٠ ج ٣٣)
خوبصورت اَبرُو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بھنویں اور پلکیں لمبی لمبی تھیں۔
(مسند امام احمد ص ٣٢٨ ج ٢٢)
چمکدار دندانِ مبارک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہنستے تو دندانِ مبارک سے روشنی سی نمودار ہوتی ایسا لگتا دیواریں جگمگا اٹھیں گی۔
(دلائل النبوۃ ص ٢١٥ ج ١)
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی بیشتر ہنسی تبسم کی صورت میں تھی) مسکراتے تو دانت اولوں کی طرح چمکتے۔
(شمائل ترمزی)
خوبصورت سُتواں ناک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ہند بن ابی ہالہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناک مبارک بلندی مائل سامنے سے قدرے جھکی ہوئی تھی اس پر نورانی چمک جس کی وجہ سے سر سری نظر میں بڑی اونچی معلوم ہوتی۔
(شمائل ترمزی مترجم ص ٦٠)
روشن جبیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کسی شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ کے متعلق دریافت کیا تو آپؐ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بے حد روشن جبین تھے۔ جب رات کی تاریکی یا پو پھٹنے کے وقت آتے( یا لوگوں کے مجمع میں رونما ہوتے) تو سیاہ بالوں کے درمیان بالخصوص آپؐ کی تابناک اور کشادہ پیشانی روشن چراغ کی طرح جگمگا اٹھتی تھی۔
(دلائل النبوۃ ص ٣١٧ ج ١)
گردنِ مبارک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن بہت ہی خوبصورت، حسین اور معتدل تھی، نہ زیادہ لمبی اور نہ چھوٹی تھی، اس کا وہ حصہ جو دھوپ اور ہوا میں کھلا رہتا تھا وہ اس قدر چمکدار تھا گویا چاندی کی صراحی جس میں سونے کی آمیزش ہو۔
(دلائل النبوۃ ص ٣١٧ ج ١)
فراخ سینہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا سینہ مبارک کشادہ، مضبوط اور شفاف تھا، صاف اور ہموار، شیشہ کی طرح سفید اور جلد چودھویں رات کے چاند کی مانند۔
(دلائل النبوۃ ص ٣١٧ ج ١١)

ہیں اور ہے میں فرق

تحریر: نازیہ نزی 
ہمارے ہاں بہت سی زبانیں بولی جاتی ہیں ۔ 
جس کے باعث ہمیں اردو زبان سمجھ آنے کے باوجود ، ہے اور ہیں ، کا فرق سمجھ نہیں آتا خصوصی طور پر پشتو یا فارسی بولنے والوں کے لیے ۔؛یہاں آپ کو بتانا چاہوں گی چند مثالوں سے کہ ”ہیں اور ہے “کو کن جگہوں پر لایا جاتا ہے ۔
سب سے پہلے یہ بات سمجھنی ضروری ہے کہ” ہے “ ایک کے لیے یعنی واحد کے لیے استعمال ہوتا اور ”ہیں “جمع کے لیے ۔

واحد کی مثالیں : 

*جیسے : وہ کھانا کھاتا ہے ۔
*وہ پتنگ اڑاتا ہے ۔ 
یہاں واحد کا ذکر ہو رہا ہے ہم کسی بھی فعل سے پتا لگا سکتے ہیں کہ واحد ہے یا جمع ۔ یہاں” اڑاتا اور کھاتا“ فعل ہے ۔

جمع کی مثالیں : 

*وہ کھانا کھاتے ہیں ۔
*وہ مارکیٹ جاتے ہیں ۔
*احمد اور ساحر بھائی ہیں ۔
اب آپ کو جمع کے بارے میں علم ہو گیا ہو گا کہ کھاتے ، جاتے فعل ہیں ۔جب ایک سے زائد افراد کا ذکر ہو تب بھی جمع کے طور پر ”ہیں“ لگاتے ہیں ۔ 
یہ تو تھیں آسان سی مثالیں جن کو سمجھ کر با آسانی پہچان ہو سکتی ہے کہ کہاں” ہےاور ہیں “ لگانا ہے ۔ 

بعض جملے ایسے بھی ہوتے ہیں جن کو مختلف انداز سے بیان کیا جاتا ہے ۔
جیسے : آج بارش ہو رہی ہے ۔

آجکل بارشیں زیادہ ہو رہی ہیں ۔
آپ نے نوٹ کیا ہو گا یہاں دونوں جملوں میں ”رہی “ کا استعمال ہوا ہے ۔اب ہم یہاں اندازہ لگا سکتے ہیں کہ دونوں جملوں میں واحد اور جمع الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔
بارش اور بارشیں ۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ واحد اور جمع کا پتا صرف کسی فعل سے نہیں لگایاجا سکتا ۔بلکہ کسی جملے میں کسی بھی اسم کے واحد جمع ہونے سے بھی ان کے استعمال سے با آسانی پتا لگایا جا سکتا ہے ۔

نازیہ نزی

کہ اور کے میں فرق

"کے” دو معانی کے لیے آتا ہے:

(1) "کا ، کی ، کے” والا "کے” ، یعنی مضاف کے جمع ہونے کی صورت میں حرفِ اضافت ، جیسے "ضیافت کے اضافے”

(2) دو فعلوں کے درمیان "کر” کے بجائے "کے” جیسے: "بیٹھ کے کھائیے” ، اصل میں تھا "بیٹھیے اور کھائیے” ، پھر اسے "بیٹھ کر کھائیے” کیا گیا ، پھر "بیٹھ کے کھائیے”

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جبکہ "کہ” درج بالا دو معانی کے سوا دیگر بہت سے معانی کے لیے آتا ہے ، جیسے بل ، جب ، چوں ، کیوں ، تا اور جو وغیرہ کے بعد ، نیز ان کے علاوہ بھی آتا ہے ، درج ذیل مثالوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے:

٭٭ کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے۔
٭٭ وہ آیا کہ نہیں؟
٭٭ جہاں ہوا کانوں میں گھسی کہ زکام آ لیتا ہے۔
٭٭ خیال رہے کہ وہ بندہ ٹھیک نہیں ہے۔
٭٭ ایسا شعر کہا کہ سب خوش ہوگئے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

عروضی لحاظ سے ان دونوں کو 2 یا 1 باندھا جاسکتا ہے ، البتہ "کے” کو 2 باندھنا زیادہ بہتر ہے اور "کہ” کو 1 باندھنا مستحسن ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرؔسَری

رباعی ، قطعہ اور دوبیتی میں فرق

رباعی کے لیے چوبیس اوزان کی پابندی ہے ، بعض لوگ اس میں الجھ جاتے ہیں کہ رباعی کے لیے یہ اوزان ضروری کیوں ہیں ، کسی بھی وزن میں رباعی کیوں نہیں کہی جاسکتی۔

حالانکہ رباعی اور قطعہ وغیرہ الفاظ میں محض اصطلاحات کا فرق ہے ، ورنہ چار مصرعے کسی بھی وزن میں کہے جاسکتے ہیں ، وزن وغیرہ کی تبدیلی سے صرف نام بدلے گا۔

لہٰذا دیگر شرائط سے قطع نظر اگر چار مربوط مصرعے مخصوص چوبیس اوزان میں ہیں تو انھیں "رباعی” کہا جائے گا اور اگر ان چوبیس کے علاوہ کسی اور وزن میں ہوں تو یہ "قطعہ” کہلائے گا اور اگر مربوط نہ ہوں تو ان کا نام "دو بیتی” ہوگا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرؔسَری

قطعہ اور رباعی میں فرق

عام طور پر جب کوئی دو شعر ایسے ہوں کہ دونوں مقفی ہوں ، دونوں کا مضمون بھی ایک ہو تو عام قاری کے لیے یہ پہچاننا مشکل ہوجاتا ہے کہ اسے رباعی کہیں یا قطعہ؟ نیز شاعری میں جو خواص کا طبقہ ہے وہ بھی ان دونوں اصطلاحات کے بیچ بعض غلط فہمیوں کا شکار ہے ، علاوہ ازیں فنی لحاظ سے اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ان دونوں کے درمیان جتنے بھی فرق ہیں ان سب کو مثالوں کے ساتھ واضح کیا جائے تاکہ علوم و فنون کے دیگر ابواب کی طرح یہ باب بھی تشنگی اور سوال کے ہر گوشے کو بند کرسکے۔
قطعہ اور رباعی میں عنوان ، مصرعوں کی تعداد ، بحر ، قافیہ اور مضمون کئی لحاظ سے فرق ہے۔

بندے کی تحقیق کے مطابق قطعہ اور رباعی میں کل آٹھ فرق ہیں:

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(1) عنوان کے لحاظ سے فرق:
قطعے کا عنوان رکھا جاسکتا ہے اور رکھا جاتا ہے ، مگر رباعی کا عنوان نہیں رکھا جاتا۔
جیسے غالب کے اس قطعے کا نام ”شریکِ غالب“ ہے:
سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے
جہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے
ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھے
کہ جو شریک ہو میرا، شریکِ غالبؔ ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(2) تعدادِ مصارع کے لحاظ سے فرق:
رباعی میں ہمیشہ چار مصرعے ہوتے ہیں ، جبکہ قطعے میں کم از کم چار مصرعے اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے۔
غالب کا یہ شاہکار قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
اے تازہ واردانِ بساطِ ہوائے دل
زنہار اگر تمہیں ہوسِ نائے و نوش ہے
دیکھو مجھے! جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو
میری سنو! جو گوشِ نصیحت نیوش ہے
ساقی بہ جلوہ دشمنِ ایمان و آگہی
مطرب بہ نغمہ رہزنِ تمکین و ہوش ہے
یا شب کو دیکھتے تھے کہ ہر گوشۂ بساط
دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے
لطفِ خرامِ ساقی و ذوقِ صدائے چنگ
یہ جنّتِ نگاہ وہ فردوسِ گوش ہے
یا صبح دم جو دیکھیے آ کر تو بزم میں
نے وہ سرور و سوز نہ جوش و خروش ہے
داغِ فراقِ صحبتِ شب کی جلی ہوئی
اک شمع رہ گئی ہے سو وہ بھی خموش ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(3) قافیہ و ردیف کے لحاظ سے فرق:
دوسرے اور چوتھے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا قطعہ اور رباعی دونوں میں ضروری ہے ، مگر پہلے مصرع کا مقفی (اور اگر ردیف ہو تو مردَّف) ہونا صرف رباعی میں ضروری ہے ، قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس قطعے میں پہلا مصرع مقفی و مردف نہیں ہے:
سرمۂ مفتِ نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احساں میرا
رخصتِ نالہ مجھے دے کہ مبادا ظالم
تیرے چہرے سے ہو ظاہر غمِ پنہاں میرا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(4) بحر کے لحاظ سے پہلا فرق:
رباعی بحر ہزج کی دو بحروں کے ساتھ مخصوص ہے: (1)مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل (2) مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل ، انھی دو میں تسکین اوسط اور آخر میں اضافۂ ساکن سے کل چوبیس اوزان حاصل ہوتے ہیں ، ایک رباعی کے چار مصرعوں کو ان میں سے کسی بھی ایک یا چار مصرعوں کے مطابق لکھا جاسکتا ہے۔ جبکہ قطعہ کے لیے کوئی بحر مخصوص نہیں ہے ، قطعہ کسی بھی مانوس بحر میں کہہ سکتے ہیں۔
جیسے کامل کا یہ خوبصورت قطعہ بحر رمل میں ہے:
ابر تھا، بارش تھی، وقتِ گُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
قہقہے تھے،خندۂ قُلقُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا
اک طرف آہیں تھیں، غم تھا، رنج تھے اور اک طرف
قُمریاں تھیں، نغمۂ بُلبُل تھا، تم تھے، میں نہ تھا

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(5) بحر کے لحاظ سے دوسرا فرق:
پانچواں فرق چوتھے فرق سے ملتا جلتا ہے ، مگر باریک سا فرق ہونے کی وجہ سے اسے الگ سے ذکر کیا جارہا ہے اور وہ یہ کہ رباعی کے لیے مذکورہ بالا دو بحروں میں سے کسی ایک کا ہونا ضروری ہے جبکہ قطعے میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل خلاف اولیٰ ہے کیونکہ رائج مفعول مفاعیل مفاعیل فعولن ہے اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعَل درست ہی نہیں کیونکہ یہ رائج ہی نہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(6) بحر کے لحاظ سے تیسرا فرق:
رباعی میں مفعول مفاعیل مفاعیل فعَل اور مفعول مفاعلن مفاعیل فعل کو جمع کرسکتے ہیں مگر قطعے میں نہیں۔
جیسے غالب کے اس رباعی میں یہ دونوں بحریں جمع ہیں:
بعد از اِتمامِ بزمِ عیدِ اطفال
ایّامِ جوانی رہے ساغر کَش حال
آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیم عدم
اے عُمرِ گُذشتہ یک قدم استقبال
اس رباعی میں پہلے ، تیسرے اور چوتھے مصرع کی بحر ایک ہے اور دوسرے مصرع کی بحر دوسری ہے۔
انجام کے آغاز کو دیکھا میں نے
ماضی کے ہر انداز کو دیکھا میں نے
کل نام ترا لیا جو بُوئے گُل نے
تا دیر اُس آواز کو دیکھا میں نے
جوش صاحب کی اس رباعی میں تیسرے مصرع کی بحر باقی تینوں مصرعوں کی بحر سے جدا ہے۔
قطعہ میں ان دو بحروں کا جمع کرنا درست نہیں ہے

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(7) غزل کے لحاظ سے فرق:
قطعہ کسی غزل کا بھی حصہ ہوسکتا ہے ، مگر رباعی نہیں۔
جیسے غالب کی اس غزل میں مقطع سے پہلے والے دو شعر بصورتِ قطعہ ہیں:
وہ بات چاہتے ہو کہ جو بات چاہیے
صاحب کے ہم نشیں کو کرامات چاہیے
مسجد کے زیرِ سایہ خرابات چاہیے
بھَوں پاس آنکھ قبلۂ حاجات چاہیے
عاشق ہوئے ہیں آپ بھی ایک اور شخص پر
آخر ستم کی کچھ تو مکافات چاہیے
دے داد اے فلک! دلِ حسرت پرست کی
ہاں کچھ نہ کچھ تلافیِ مافات چاہیے
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لیے ہم مصوّری
تقریب کچھ تو بہرِ ملاقات چاہیے
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گونہ بیخودی مجھے دن رات چاہیے
ہے رنگِ لالہ و گل و نسریں جدا جدا
ہر رنگ میں بہار کا اثبات چاہیے
ق
سر پائے خم پہ چاہیے ہنگامِ بے خودی
رو سوئے قبلہ وقتِ مناجات چاہیے
یعنی بہ حسبِ گردشِ پیمانۂ صفات
عارف ہمیشہ مستِ مئے ذات چاہیے
نشو و نما ہے اصل سے غالبؔ فروع کو
خاموشی ہی سے نکلے ہے جو بات چاہیے
شعراء کی عادت ہے کہ وہ جب غزل میں قطعہ بند اشعار پیش کرتے ہیں تو ان کے شروع میں "ق” لکھ دیتے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

(8) مضمون کے لحاظ سے فرق:
قطعے کے اشعار میں بلحاظ مضمون تسلسل ہوتا ہے ، یہی تسلسل رباعی میں بھی ہوتا ہے ، مگر رباعی کے چوتھے مصرع کا معنوی لحاظ سے سب سے زیادہ جاندار ہونا ضروری ہے ، یہاں تک کہ رباعی کے ابتدائی تینوں مصرعوں کا معنوی لحاظ سے دار و مدار چوتھے مصرع پر ہوتا ہے ، یہ قید قطعے میں ملحوظ نہیں ہوتی۔
جیسے صوفی تبسم کا یہ قطعہ ملاحظہ فرمائیے:
کتنی ہنگامہ خُو تمنّائیں
مضمحل ہو کے رہ گئیں دل میں
جیسے طوفاں کی مضطرب موجیں
سو گئی ہوں کنارِ ساحل میں
اب غالب کی اس رباعی میں غور کیجیے:
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دل
سُن سُن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائش
گویم مشکل و گر نگویم مشکل
ان دونوں کے چوتھے مصرع کی معنویت میں غور کرنے سے رباعی اور قطعہ کا یہ فرق بخوبی واضح ہوجائے گا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

نثری نظم اور نثری شاعری میں فرق

ایسا کلام جس میں آہنگ کا بالکل خیال نہ کیا جائے , اسے "نثری شاعری” یا "شاعرانہ نثر” تو کہہ سکتے ہیں ، مگر "نثری نظم” یا "منظوم نثر” کا نام دینا لغت اور اصطلاحاتِ عروض دونوں لحاظ سے نا انصافی ہے۔

حالی صاحب نے بھی وزن کو جب غیر مشروط قرار دیا تو وہاں تذکرہ شعر کا تھا نہ کہ نظم کا۔

تاہم یہاں ایک پہلو اور قابلِ غور ہے ۔ ۔ ۔

وہ یہ کہ اصطلاحات کے وجود میں آنے میں سب سے زیادہ مؤثر چیز "استعمالاتِ عوام” ہے ، جس کے آگے تمام اہل حل و عقد بھی ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ "نثری نظم” نام بہت کثرت سے استعمال ہورہا ہے ، اگرچہ مشاہدہ یہ بھی بتارہا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو وزن اور آہنگ کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، کہ ان کی طبعیت ہی موزوں نہیں ہے ، جیسے اگر کوئی شخص منطقی ذہن نہ رکھتا ہو تو وہ فلسفہ پڑھنے میں کبھی کام یاب نہیں ہوسکتا ، لیکن "نثری نظم” کہنے والوں سے بہت زیادہ الجھنا اور بحث و مباحثہ کو راہ دینا بھی ٹھیک نہیں ہوگا کہ اس سے نہ صرف صنفِ ادب کو نقصان ہوگا بلکہ "وصفِ ادب” میں بھی کمی آئے گی۔

یہ لوگ شوق سے "نثری نظم” لکھیں ، ہم اسے "نثری شاعری” ہی لکھا کریں ، اب ان میں سے کوئی ایک اصطلاح مقبول ہوتی ہے یا دونوں ، اسے ہم "وقت” کے فیصلے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ 🙂

ایک بات یہ بھی ہے کہ آہنگ "نظم” کا لازمی جزو بھی نہیں ہے ، بلکہ جس طرح کسی بھی معاملے میں اگر ترتیب منظم ہو تو وہاں بھی نظم و ضبط کے لحاظ سے تعریف ہی کی جاتی ہے ، اسی طرح کلام بھی دو لحاظ سے منظم ہوتا ہے ایک آہنگ اور دوسرا معنویت ، اگر "نثری شاعری” میں معنویت بھرپور ہو تو اس لحاظ سے اسے "نثری نظم” کہنا بھی کچھ غلط نہیں ہے کہ اس صورت میں "نثری” کا مطلب کلام میں آہنگ کا نہ ہونا ہے اور "نظم” کا مطلب معنویت کے لحاظ سے کلام کا خوب منظم ہونا ہے ، اگر اس توجیہ کی تصویب کی جائے تو "نثری نظم” کہنے والوں کی بات بھی لائق التفات ہے۔ 🙂

واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم و نحن لاسیما بی من الجھلاء ، سبحانہ لا علم لنا الا ما علمنا ، انہ ھو العلیم الحکیم۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

نظم اور غزل میں فرق

لفظ "نظم” دو الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

(1) کلام کی دو قسمیں ہیں ، نظم اور نثر ، یعنی کلام میں اگر وزن کا خیال رکھا جائے اسے نظم کہتے ہیں ورنہ نثر کہتے ہیں ، اس معنی کے لحاظ سے نظم میں تمام اصناف (نظم ، غزل ، قطعہ ، رباعی ، مثنوی) شامل ہیں۔

(2) ہیئت کے لحاظ سے نظم کی متعدد اقسام ہیں: بیت ، نظم (آزاد/پابند) ، غزل ، قطعہ ، رباعی وغیرہ۔
اس لحاظ سے "نظم” اور "غزل” دو الگ الگ اصناف ہیں۔

شعراء حضرات کے مجموعہ ہائے کلام عام طور پر تین ابواب پر منقسم ہوتے ہیں:
(الف) نظمیں (ب) غزلیں (ج) قطعات و رباعیات
یہاں "نظموں” میں پابند نظم ، آزاد نظم ، قصیدہ ، مثنوی وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں ، بعض لوگ ہیئت کے لحاظ سے ہر ہر صنف کو الگ الگ بھی رکھ لیتے ہیں۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

محاورہ ، کہاوت اور ضرب الامثال میں فرق

اس موضوع پر تین چیزیں اہم ہیں:
(1) تعریف اور وضاحت
(2) باہمی فرق
(3) مثالیں

===================

محاورہ ، کہاوت اور ضرب المثل کی تعریف اور وضاحت:

کہاوت اور ضرب المثل ایک شے ہے۔

کسی واقعے یا قصے وغیرہ کا نتیجہ جو لگے بندھے الفاظ میں بطور مثال بیان کیا جائے کہاوت یا ضرب المثل کہلاتا ہے۔

ہر وہ فقرہ یا مصرع کہاوت بن جاتا ہے جو بطور نظیر زبان زد عام اور مشہور ہوجائے۔ جیسے "سانپ بھی مرجائے لاٹھی بھی نہ ٹوٹے”

جبکہ محاورہ یہ ہے کہ کسی مصدر کو اس کے حقیقی معنی کے بجائے مجازی معنی میں استعمال کیا جائے۔ جیسے "کھانا” ایک مصدر ہے ، اس کا حقیقی ترجمہ یہ ہے کہ کوئی چیز بطور خوراک یا دوا منہ کے راستے سے پیٹ تک پہنچانا ، لہٰذا "روٹی کھانا” ، "دوائی کھانا” ، "چاول کھانا” محاورات نہیں ہیں اور اگر اس "کھانا” کو مجازی طور پر استعمال کیا جائے جیسے غم کھانا ، ہوا کھانا ، چغلی کھانا ، پیسے کھانا تو یہ سب محاورات کہلائیں گے۔

کہاوت کی جمع کہاوتیں ، ضرب المثل کی جمع ضرب الامثال اور محاورہ کی جمع محاورے اور محاورات آتی ہے۔

===================

محاورہ اور کہاوت میں فرق:

کہاوت ایک مکمل جملہ ہوتا ہے ، جسے تبدیل کیے بغیر لکھا اور کہا جاتا ہے ، جبکہ محاورہ مصدر کی شکل میں ہوتا ہے جسے مختلف افعال میں تبدیل کرسکتے ہیں۔

مثلا "اندھوں میں کانا راجہ” ایک کہاوت ہے ، اس میں "اندھوں” کو "بہروں” سے یا "کانا” کو "سیانا” سے تبدیل نہیں کرسکتے۔

جبکہ "ڈینگیں مارنا” جو کہ محاورہ ہے اسے فاعل یا فعل کے لحاظ سے تبدیل کرسکتے ہیں ، جیسے: وہ ڈینگیں مارتا ہے ، تم ڈینگیں مارتے ہو ، ڈینگیں مت مارو ، ہم سب نے ڈینگیں ماری

===================

کہاوتیں اور ضرب الامثال:

آبرو جاکے نہیں آتی
آپ بھلے تو جگ بھلا
اپنی اپنی ڈفلی ، اپنا اپنا راگ
آتا بھلا نہ جاتا
آج آئے کل چلے
آج میں نہیں یا وہ نہیں (وہ کی جگہ کچھ بھی لاسکتے ہیں)
ادھر کنواں ادھر کھائی
اس ہاتھ دے ، اس ہاتھ لے
آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
آسمان کا تھوکا منہ پر
آگ کھائے منہ جلے ، ادھار کھائے پیٹ
آگے دوڑ پیچھے چھوڑ
آم کے آم گھٹلیوں کے دام
ان تلوں میں تیل نہیں
اندھا کیا چاہے دو آنکھیں
اندھوں میں کانا راجہ
آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل
آنکھ کا اندھا ، گانٹھ کا پورا
انگور کھٹے ہیں
اونچی دکان پھیکا پکوان
ایک انار ، سو بیمار
ایک اور ایک گیارہ
ایک پنتھ دو کاج
ایک تو کریلا ، دوسرے نیم چڑھا
ایک سر ہزار سودا
بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی
الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے
ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا
نہ نو من تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جانوروں ، پرندوں اور حشرات سے متعلق کہاوتیں:

الو: اپنا الو کہیں نہیں گیا ، الو کی دم فاختہ

اونٹ: اونٹ کے منہ میں زیرہ ، انوکھے گاؤں میں اونٹ آیا ، اونٹ ‌بلبلاتا ‌(برلتا) ‌ہی ‌لدتا ‌ہے ، اونٹ ‌بلیاں ‌لے ‌گئیں ‌ہاں ‌جی ‌ہاں ‌جی ‌کیجیے ، بندر ناچے اونٹ جل مرے

بٹیر: آدھا تیتر آدھا بٹیر ، اندھے کے پاؤں تلے بٹیر دب گئی۔ کہا روز شکار کھائیں گے ، اندھے کے ہاتھ بٹیر آئی ، تیتر تو اپنی آئی مرا‘ تو کیوں مرے بٹیر

بکرا: بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی آخر ایک نہ ایک دن چھری تلے آئے گی۔

بلی: بلی سے گوشت کی رکھوالی ، بلی سے دودھ کی رکھوالی ، بلی کے خواب میں چھیچھڑے ، اونٹ ‌بلیاں ‌لے ‌گئیں ‌ہاں ‌جی ‌ہاں ‌جی ‌کیجیے

بندر: بندر کیا جانے ادرک کا ذائقہ ، اصطبل کی بلا بندر کے سر ، انگریز کی نوکری اور بندر نچانا برابر ہے ، بندر ناچے اونٹ جل مرے ، بندر ناریل سے پنساری بنا ، بندر کا حال مچھندر جانے

بیل: آبیل مجھے مار ، اپنا بیل کلہاڑی نا تھیں

تیتر: آدھا تیتر آدھا بٹیر ، تیتر تو اپنی آئی مرا‘ تو کیوں مرے بٹیر

چڑیا: اب پچھتائے کیا ہوت ، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت

کتا: دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا ، اپنی گلی میں کتا بھی شیر ہوتا ہے

گدھا: السی کا جھوڑا‘ نہ گدھا کھائے نہ گھوڑا ، پوربی رینگ پہاڑی گدھا ، اپنی غرض پر لوگ گدھے کو بھی باپ بناتے ہیں ، ایسے غائب جیسے گدھے کے سر سے سینگ ، تیری بات گدھے کی لات

گلہری: اب رنگ لائی گلہری ، گلو گلہری کیا کھائیگی ، گلہری ‌کا ‌پیڑ ‌ٹھکانا

مرغ: اصیل مرغ ٹکے ٹکے ، آٹا ہے نہ پاٹا مرغ کا ہے پر کاٹا ، اپنی مرغی بری نہ ہو تو ہمسایے میں انڈا کیوں دے ، اصیل مرغ کی ایک ٹانگ

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

محاورات:

آنا: آڑے آنا ، مزہ آنا ، زور آنا ، رونا آنا
اٹھانا: بات اٹھانا ، بیڑہ اٹھانا ، ہاتھ اٹھانا ، آنکھ اٹھانا
اگلنا: آگ اگلنا ، بات اگلنا
بنانا: بات بنانا ، الو بنانا ، ماموں بنانا
بہانا: خون بہانا ، سخاوت کا دریا بہانا ، پیسہ بہانا
توڑنا: آسمان کے تارے توڑنا ، دم توڑنا ، منہ توڑنا ، دل توڑنا
چرانا: آنکھ چرانا ، دل چرانا
ڈالنا: طرح ڈالنا ، دھمال ڈالنا
رکھنا: شرم رکھنا ، پاس رکھنا
کرنا: آج کل کرنا ، جی کرنا ، بس کرنا ، حد کرنا
کھانا: روزہ کھانا ، دماغ کھانا ، ہوا کھانا ، غم کھانا ، منہ کی کھانا
کھلنا: آنکھیں کھلنا ، سینہ کھلنا ، بات کھلنا ، بیسی کھلنا
لگانا: دل لگانا ، آگ لگانا ، آنکھ لگانا
لگنا: آنکھیں چھت سے لگنا ، آنکھ لگنا ، آگ لگنا
نکالنا: دانت نکالنا ، آنکھیں نکالنا
ہونا: آبدیدہ ہونا ، آتش زیرِ پا ہونا ، آٹے میں نمک ہونا ،
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

رد العجز علی الصدر ، معاد ، تکرار اور تعاکس میں فرق

رد العجز علی الصدر: جملے یا شعر کا اول و آخر ایک سا ہو۔
مثال:
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
(غالب)
۔ ۔ ۔
معاد: پہلے مصرع کا آخری حصہ دوسرے مصرع کے شروع میں ہو۔
مثال:
یہ کعبۂ اربابِ یقیں عرش نشیں ہے
یہ عرش نشیں ، مُہرِ نبوت کا نگیں ہے
(انیس)
۔ ۔ ۔
تکرار: شعر میں کوئی لفظ مکرر آئے ، خواہ کہیں بھی ہو۔
مثال:
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
(اقبال)
۔ ۔ ۔
تعاکُس: پہلے مصرع کے الفاظ ترتیب بدل کر دوسرے مصرع میں آئیں۔
مثال:
دل صاف ہو کس طرح کہ انصاف نہیں ہے
انصاف ہو کس طرح کہ دل صاف نہیں ہے
(دبیر)
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

کلامِ موزوں اور شعر میں فرق

٭٭ "وزن” محض ایک آلہ ہے ، شاعری اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔

٭٭ "وزن” وہی شخص سیکھ سکتا ہے جس کی طبیعت موزوں ہو۔

٭٭ علم عروض باقاعدہ ایک علم ہے ، اسے مکمل حاصل کرنا ایک شاعر کے لیے قطعا ضروری نہیں ہے۔ محض اتنا علم بھی کافی ہے کہ "کوئی امید بر نہیں آتی” کس وزن پر ہے ، بحر کا نام اور زحافات وغیرہ کا علم غیر ضروری ہے۔

٭٭ علم عروض میں باقاعدہ لگنا اور اسے مکمل سیکھنا بلاشبہ ادب کی خدمت کا ایک حصہ ہے۔

٭٭ کسی کے شاعر ہونے کے لیے یہی علامت بہت ہے کہ وہ از خود اشعار لکھنے لگ جائے ، پھر بعد میں اسے معلوم ہو کہ وزن بھی کچھ ہوتا ہے اور وہ اب تک بے وزن مگر کسی قدر گنگناہٹ کے ساتھ لکھتا رہا ہے ، معمولی سی کوشش سے یہ شخص وزن سیکھ سکتا ہے ، پھر اسے معلوم ہوگا کہ یہ اب تک قافیہ و ردیف کی بھی بہت سی غلطیوں سے ناواقف ہے ، دیگر عیوب سخن بھی پھر اس کے سامنے آتے ہیں اور مطالعہ و اصلاح سے یہ شخص اپنی شاعری میں نکھار پیدا کرتا چلا جاتا ہے ، خود بندے نے وزن سے واقفیت سے پہلے ایک عدد دیوان لکھ ڈالا تھا جو آج بھی محفوظ ہے اور خارج از وزن ہونے کے علاوہ کئی دیگر اسقام پر مشتمل ہے۔ 🙂

٭٭ وزن اور شعر کے معاملے میں دو انتہائیں دیکھنے میں آئی ہیں:

(1) بعض لوگ شاعری کو چھوڑ کر ہر وقت وزن اور عروض میں لگے رہتے ہیں ، ان کی وجہ سے تمام وہ شعراء بھی بدنام ہوجاتے ہیں جو اچھے شاعر ہونے کے علاوہ علم عروض کے بھی ماہر ہوتے ہیں۔

(2) بعض دوسری انتہاء کے لوگ ہر وقت وزن اور عروض کی برائی کرنے مصروف رہتے ہیں ، حتی کہ اگر کسی جگہ عروض کی کوئی ایک بات زیرِ بحث ہو تو وہاں بھی وہ وزن کی مخالفت میں اپنے دیرینہ دلائل کی پٹاری کے ساتھ آ دھمکتے ہیں اور ثابت کرنے لگتے ہیں کہ شاعر کے لیے علم عروض ضروری نہیں ، کاش انھیں کوئی سمجھا سکے کہ شاعر کے لیے تو عروضیوں کی دشمنی بھی اسی طرح غیر ضروری ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

پہ ، پے اور پر میں فرق

پر” اور "پے” دو الگ الگ لفظ ہیں۔
"پر” اردو میں درج ذیل معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے:
(1) مگر
(2) کیونکہ
(3) اوپر

اسی طرح لفظ "پے” بھی متعدد معانی کے لیے مستعمل ہے ، ان میں سے دو یہ ہیں:
(1) "پٹھا” جیسے "رگ و پے”
(2) "پیچھے” جیسے "پے در پے” ، پھر اسے مزید مختصر کرکے "پیاپے” کہا جاتا ہے۔

لفظ "پر” کو شعراء جب شعر میں لاتے ہیں تو اگر ہجائے بلند کا موقع ہو تو "پر” ہی لکھتے ہیں اور اگر ہجائے کوتاہ کے طور پر لانے کی نوبت آجائے تو "پہ” کردیتے ہیں ، گویا "پہ” مخفف ہے "پر” کا ، اس لیے جب ہجائے بلند ہی باندھنا ہو تو "پر” ہی لکھنا چاہیے ، نہ کہ "پہ” کیونکہ "پہ” کو اگر ہجائے بلند کرکے پڑھتے ہی تو یہ "پے” بن جاتا ہے جو کہ "رگ و پے” اور "پے در پے” ہی میں ٹھیک لگتا ہے۔

اشعار سے مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

بس کہ روکا میں نے اور سینے میں اُبھریں پَے بہ پَے
میری آہیں بخیئہ چاکِ گریباں ہو گئیں
(غالب ، پے بہ پے)

کماں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں، انصاف بہتر ہے
نہ کھینچے طاقتِ خمیازہ تہمت ناتوانی کی
(غالب ، رگ و پے)

تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
(غالب ، پہ بمعنی اوپر)

عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلےٰ مرے آگے
(غالب ، پہ بمعنی مگر)

گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
(غالب ، پر بمعنی ظرف)

آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
(غالب ، پر بمعنی مگر)

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

یہاں ایک توجیہ اور بھی سامنے آئی ہے کہ "پے” مخفف ہے سنسکرتی لفظ "پرے” بمعنی "اوپر” کا ، اگر یہ توجیہ درست مان لی جائے تو "پر” کی جگہ "پے” لکھنے میں بھی بظاہر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

جبلت اور فطرت میں فرق

جبلت اور فطرت عربی زبان کے مترادف لفظ ہیں جو کہ اصل طبیعت ، نیچر ، خلقت ، مزاج ، سرشت ، خمیر وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

عربی لغت کے لحاظ سے:
جبلت: (1) خلقت (جبل الله الخلق ، أی خلقھم) (2) قوم ، امت
فطرت: (1) پھاڑنا (2) خلقت (فطر الله الخلق ، أی خلقھم) (3) وہ حالت یا صفت جو پیدائشی ہو
(لسان العرب ، قاموس الوحید)

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اردو لغت کے لحاظ سے:
جبلت: (1) خلقت (2) سرشت (3) اصلی طبیعت
فطرت: (1) قدرت (2) قانون قدرت (3) طبیعت (4) سازش (5) عقل مندی (6) دین ، سنت
(نور اللغات ، فرہنگ آصفیہ)

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

فطرت کا لفظ فقہاء کے نزدیک "خصالِ فطرت” اور "صدقۂ فطر” کے معانی میں مستعمل ہے۔ (الموسوعة الفقھیة)

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آیاتِ قرآنیہ میں فطرت و جبلت کا استعمال:

(1) {وَاتَّقُوا الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالْجِبِلَّةَ الْأَوَّلِينَ} [الشعراء: 184]
اس آیت میں جبلة یا تو خلقت کے معنی میں ہے ، اب یا تو اس سے پہلے "ذوی” محذوف ہے ، یا جبلة مصدر بمعنی اسم مفعول ہے یعنی والمجبولین الاولین ، یا پھر آیت میں جبلت سے بڑی جماعت ہے جسے پہاڑ (جبل) سے تشبیہ دے کر جبلت کہا گیا ہے جیسا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (روح المعانی)

(2) {فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا} [الروم: 30]
اس آیت میں فطرت خلقت کے معنی ہے۔ (جلالین)

(3) {إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ} [الأنعام: 79]

(4) {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى الَّذِي فَطَرَنِي} [هود: 51]

(5) {فَسَيَقُولُونَ مَنْ يُعِيدُنَا قُلِ الَّذِي فَطَرَكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ} [الإسراء: 51]

(6) {قَالُوا لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ } [طه: 72]

(7) {قَالَ بَلْ رَبُّكُمْ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الَّذِي فَطَرَهُنَّ } [الأنبياء: 56]

(8) {وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ} [يس: 22]

(9) {الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ} [الزخرف: 27]
نمبر 3 تا نمبر 9 آیات میں فطرت کے مشتقات پیدا کرنے کے معنی میں ہیں۔

(10) {تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُّ الْأَرْضُ وَتَخِرُّ الْجِبَا} [مريم: 90]

(11) {تَكَادُ السَّمَاوَاتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ } [الشورى: 5]

(12) السَّمَاءُ مُنْفَطِرٌ بِهِ كَانَ وَعْدُهُ مَفْعُولًا

(13) {إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ } [الانفطار: 1]

درج بالا چاروں آیات میں فطرت کے مشتقات پھٹنے کے معنی میں ہیں۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

احادیث میں فطرت اور جبلت کا استعمال:

جبلت:
(1) عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عن النبى -صلى الله عليه وسلم- قال « إذا تزوج أحدكم امرأة أو اشترى خادما فليقل اللهم إنى أسألك خيرها وخير ما جبلتها عليه وأعوذ بك من شرها ومن شر ما جبلتها عليه۔ (سنن أبی داود ، کتاب النکاح ، باب فی جامع النکاح ، الرقم:2162)

فطرت:
(1) عن البراء بن عازب قال قال النبي صلى الله عليه و سلم "إذا أتيت مضجعك فتوضأ وضوءك للصلاة ثم اضطجع على شقك الأيمن ثم قل اللهم أسلمت وجهي إليك وفوضت أمري إليك وألجأت ظهري إليك رغبة ورهبة إليك لا ملجأ ولا منجى منك إلا إليك اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت وبنبيك الذي أرسلت فإن مت من ليلتك فأنت على الفطرة واجعلهن آخر ما تتكلم به” (صحیح البخاری ، کتاب الوضوء ، باب فضل من بات علی الوضوء ، الرقم:244)
(2) عن الزهري أخبرني أبو سلمة بن عبدد الرحمن أن أبا هريرة رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم "ما من مولود إلا يولد على الفطرة فأبواه يهودانه أو ينصرانه أو يمجسانه كما تنتج البهيمة بهيمة جمعاء هل تحسون فيها من جدعاء” . ثم يقول أبو هريرة رضي الله عنه {فطرة الله التي فطر الناس عليها لا تبديل لخلق الله ذلك الدين القيم}۔ (صحيح البخاري ، کتاب الجنائز ، الرقم:1293)
(3) عن عائشة قالت قال رسول الله صلى الله عليه و سلم "عشر من الفطرة قص الشارب وإعفاء اللحية والسواك واستنشاق الماء وقص الأظفار وغسل البراجم ونتف الإبط وحلق العانة وانتقاص الماء” قال زكرياء قال مصعب "ونسيت العاشرة إلا أن تكون المضمضة” (صحیح مسلم ، کتاب الطھارۃ ، باب خصال الفطرۃ ، الرقم:261)

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اشتراکی معنی:
فطرت اور جبلت اس بات میں مشترک ہیں کہ دونوں کا اطلاق پیدائشی عادات و صفات پر ہوتا ہے۔

فرق:
دین و مذہب کے لحاظ سے انسان کے اندر جو باتیں ودیعت کی گئی ہیں انھیں فطرت سے تعبیر کیا جاتا ہے ، یعنی فطرت جبلت کی وہ خاص نوع ہے جو انسان کو قبول دین کے لیے آمادہ کرتی ہے۔
جبلت کے آگے ہم مجبور ہوتے ہیں ، جبکہ فطرت ہمیں کچھ کرنے یا کہنے پر راغب کرتی ہے۔
فارسی کا مقولہ مشہور ہے: "جبل گردد جبلت نہ گردد”
اقبال بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نا ناری ہے

(قال الجرجانی فی "التعریفات” الفطرة الجبلة المتهيئة لقبول الدين)
(قال الزمخشری فی "الفائق” كلُّ مولودٍ يوُلَد على الفِطْرة ۔ ۔ ۔ والمعنى أنه يُولَدُ على نَوْعٍ من الجِبِلة)

واللہ اعلم بالصواب۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرؔسَری

سارے حرفوں میں اک حرف پیارا بہت اور یکتا بہت

نعت رسول مقبول ﷺ

سارے حرفوں میں اک حرف پیارا بہت اور یکتا بہت
سارے ناموں میں اک نام سوہنا بہت اور ہمارا بہت

اُس کی شاخوں پہ آ کر زمانوں کے موسم بسیرا کریں
اک شجر، جس کے دامن کا سایہ بہت اور گھنیرا بہت

ایک آہٹ کی تحویل میں ہیں زمیں آسماں کی حدیں
ایک آواز دیتی ہے پہرا بہت اور گھنیرا بہت

جس دئیے کی توانائی ارض و سما کی حرارت بنی
اُس دئیے کا ہمیں بھی حوالہ بہت اور اجالا بہت

میری بینائی سے اور مرے ذہن سے محو ہوتا نہیں
میں نے روئے محمدؐ کو سوچا بہت اور چاہا بہت

میرے ہاتھوں سے اور میرے ہونٹوں سے خوشبو جاتی نہیں
میں نے اسمِ محمدؐ کو لکھا بہت اور چُوما بہت

بے یقیں راستوں پر سفر کرنے والے مسافر سنو
بے سہاروں کا ہے اک سہارا بہت، کملی والا بہت

سلیم کوثر

زِ فضلِ خاص خدائے محمدِؐ عربی

نعتِ رسولِ مقبول ﷺ

زِ فضلِ خاص خدائے محمدِؐ عربی
ہوں میں بھی مدح سرائے محمدِؐ عربی

رہِ ثواب دکھائے محمدِؐ عربی
خدا کی سمت بلائے محمدِؐ عربی

حدیثِ عشق سکھائے محمدِؐ عربی
غرور و کبر مٹائے محمدِؐ عربی

دلوں کی پیاس بجھائے محمدِؐ عربی
وہ جامِ خاص پلائے محمدِؐ عربی

گرے ہوؤں کو اٹھائے محمدِؐ عربی
گلے سے سب کو لگائے محمدِؐ عربی

نصیب جاگ اٹھا گلستانِ فانی کا
خوشا نصیب کہ آئے محمدِؐ عربی

کوئی کلیم بنا ہے کوئی خلیل الله
حبیب بن کہ پہ آئے محمدِؐ عربی

سرور بادۂ وحدت کا بخش کر سب کو
دوئی کا نقش مٹائے محمدِؐ عربی

ہو مثلِ تیر ترازو دلوں میں انساں کے
ہے وحی رب کہ نوائے محمدِؐ عربی

تمام حل ہوں مسائل کریں جو رو بہ عمل
کتابِ عقدہ کشائے محمدِؐ عربی

بہ جلوہ گاہِ خدا مرتفع ہوئے اک شب
شرف یہ خاص برائے محمدِؐ عربی

برائے امتِ عاصی بہ بارگاہِ خدا
ہے مستجاب دعائے محمدِؐ عربی

بروزِ حشر نہیں سایۂ اماں کوئی
جز ایک ظلِّ لوائے محمدِؐ عربی

تری شفاعتِ عظمیٰ کا میں بھی ہوں محتاج
مری مراد بر آئے محمدِؐ عربی

بروزِ حشر جو کام آئے عاصیوں کے نظرؔ
کہاں کوئی ہے سوائے محمدِؐ عربی

محمد عبد الحمید صدیقی نظر لکھنوی

کہانی ، افسانہ ، ناول اور ڈرامے میں فرق

کسی بھی واقعے اور قصے کو "کہانی” کہتے ہیں جو سچی بھی ہوسکتی ہے اور فرضی بھی۔
پھر فرضی کہانی میں اگر کسی کردار کی ساری زندگی کو پیش کیا جائے تو اسے "ناول” کہتے ہیں اور اگر زندگی کا کچھ حصہ پیش کیا جائے تو اسے "افسانہ” کہا جاتا ہے۔
اور اگر کسی کہانی کو اداکاری کے ذریعے پیش کیا جاسکے تو اسے "ڈراما” کہا جاتا ہے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

صحیح اور سہی میں فرق

اصل لفظ "صحیح” ہی ہے ، اسے بدل کر ایک لفظ "سہی” بھی بنالیا گیا ، دونوں قریب المعنی ہیں ، مگر محل استعمال میں فرق ہے۔
جہاں صرف کسی چیز کی درستی بیان کرنی ہو وہاں "صحیح” استعمال کرتے ہیں۔
جہاں بات میں زور دینا ہو ، یا تقابل ہو یا گزارے کو بیان کرنا ہو تو ایسے مواقع پر "سہی” کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔
مثلا:
یہ بات صحیح نہیں ہے۔
یہ صحیح نہیں ہے۔
اب صحیح سمجھ میں آیا۔
صحیح البخاری
ان میں سے کسی بھی جگہ "سہی” لانا صحیح نہیں۔
اب یہ مثالیں دیکھیے:
ایسا ہے تو یوں ہی سہی
تم آؤ تو سہی
ابھی نہیں ، پھر سہی
ان جگہوں پر "سہی” آئے گا۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرؔسَری

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں