خاتم النبیین حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہیں ذرا
روحِ محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو

علامہ محمد اقبال  

نبی ﷺ نے فرمایا: ’’بنی اسرائیل کی قیادت انبیاء ؑ کیا کرتے تھے۔ جب کوئی نبی مر جاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین ہوتا، مگر میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا، بلکہ خلفاء ہوں گے‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب ما ذکر عن بنی اسرایل)

نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:

’’میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے ایک عمارت بنائی اور خوب حسین و جمیل بنائی مگر ایک کونے میں ایک اینٹ کی جگہ چھوٹی ہوئی تھی۔ لوگ اس عمارت کے گرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار ِ حیرت کرتے تھے، مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی؟ تو وہ اینٹ میں ہوں، اور میں خاتم النبیین ہوں (یعنی میرے آنے پر نبوت کی عمارت مکمل ہو چکی، اب کوئی جگہ باقی نہیں ہے جسے پر کرنے کے لیے کوئی آئے) (دیکھیے، صحیح بخاری، کتاب المناقب، باب خاتم النبیین) مسند ابو داؤد میں اس کے آخری الفاظ یہ ہیں: ’’ختم بی الانبیاء‘‘ میرے ذریعے انبیاء کا سلسلہ ختم کیا گیا۔

آپؐ نے فرمایا کہ: ’’ مجھے چھ باتوں میں انبیاء پر فضیلت دی گئی ہے، 

۱۔ مجھے جامع اور مختصر بات کہنے کی صلاحیت دی گئی

۲۔ مجھے رعب کے ذریعے نصرت دی گئی

۳۔ میرے لیے اموال ِ غنیمت حلال کیے گئے 

۴۔ میرے لیے زمین کو مسجد بھی بنایا گیا اور پاکیزگی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی 

۵۔ مجھے تمام دنیا کے لیے رسول بنایا گیا

۶۔ اور میرے اوپر انبیاءؑ کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ (مسلم، ترمذی، ابن ِ ماجہ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: 

’’رسالت اور نبوت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ میرے بعد اب نہ کوئی رسول ہے نہ نبی‘‘۔ (ترمذی، کتاب الرؤیا، باب ذہاب النبوۃ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میرے بعد کوئی نبوت نہیں ہے، صرف بشارت دینے والی باتیں ہیں‘‘۔ عرض کیا گیا، وہ بشارت دینے والی باتیں کیا ہیں یا رسول اللہ؟ فرمایا: ’’اچھا خواب، یا فرمایا، صالح خواب‘‘۔ (مسند احمد، مرویات ابو الطفیل، نسائی، ابو داؤد)

نبی ﷺ نے فرمایا:

’’میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمرؓ بن الخطاب ہوتے‘‘۔ (ترمذی، کتاب المناقب)

امت ِ مسلمہ میں آنے والے جھوٹوں سے بھی آپ ﷺ نے قبل از وقت خبر دار کر دیا:

ثوبان سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’ میری امت میں تیس کذّاب ہوں گے، جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں‘‘۔ (ابو داؤد، کتاب الفتن)

آپ ﷺ نے فرمایا: 

’’میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں‘‘۔ (بہیقی، کتاب الرؤیا۔ طبرانی)

ان احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ آپؐ آخری نبی ہیں، آپؐ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہیں ہے، نبوت کا سلسلہ آپؐ پر ختم ہو چکا ہے اور آپؐ کے بعد جو بھی رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کریں وہ دجال و کذاب ہیں۔ قرآن کے الفاظ ’’خاتم النبیین‘‘ خود اس معاملے میں حجت ہیں اور نص صریح ہیں، سوچنے کی بات ہے کہ قرآن اور سنت خود ایک لفظ کی تشریح کر رہے ہیں، تو کوئی دوسرا معنی قبول کرنا تو درکنار اس کی جانب توجہ بھی نہیں کی جا سکتی۔

نبی اکرم ﷺ کی حیات کے آخری عرصے میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا، اور نبی اکرم ﷺ کے وصال کے فوراً بعد حضرت ابوبکر ؓ نے اس کے خلاف لشکر کشی کی، اور جن لوگوں نے اس کی نبوت تسلیم کی ان کے خلاف صحابہ اکرامؓ نے بالاتفاق جنگ کی۔یہ شخص (مسیلمہ کذّاب) رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا منکر نہ تھا، بلکہ اس کا دعویٰ تھا کہ اسے حضور ؐ کے ساتھ شریک ِ نبوت بنایا گیا ہے، رسول اللہ ﷺ کو اس نے جو خط لکھا اس کے الفاظ یہ ہیں: 

’’مسیلمہ رسول اللہ کی جانب سے محمد رسول اللہ کی طرف، آپ پر سلام ہو۔ آپ کو معلوم ہو کہ میں آپ کے ساتھ نبوت کے کام میں شریک کیا گیا ہوں‘‘۔

مورخ طبری کے مطابق مسیلمہ کے ہاں جو اذان دی جاتی تھی اس میں ’’اشہد انّ محمدا رسول اللہ‘‘ کے الفاظ بھی تھے، اس صریح اقرارِ رسالت ِ محمدیؐ کے باوجود اسے کافر اور خارج از ملّت قرار دیا گیااور اس سے جنگ کی گئی۔ یہ اجماعِ صحابہ کی بہترین مثال ہے۔

دور ِ صحابہؓ سے لیکر آج تک ہر زمانے کے، اور پوری دنیائے اسلام کے ہر ملک کے علماء اس عقیدے پر متفق ہیں کہ محمد ﷺ کے بعد کوئی شخص نبی نہیں ہو سکتا، اور یہ کہ جو بھی آپؐ کے بعد اس منصب کا دعویٰ کرے، یا اس کو مانے، وہ کافر اور ملّت اسلامیہ سے خارج ہے  یہ معاملہ کس قدر اہمیت کا حامل ہے، اس کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے:

امام ابو حنیفہؒ کے زمانے میں ایک شخص نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، اور کہا کہ’’ مجھے موقع دو کہ میں اپنی نبوت کی علامات پیش کروں‘‘، اس پر امام اعظم نے فرمایا کہ: ’’جو شخص اس سے نبوت کی علامت طلب کرے گا وہ بھی کافر ہو جائے گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ فرما چکے ہیں کہ: لا نبی بعدی‘‘۔ 

(مناقب الامام الاعظم ابی حنیفہ لابن احمد المکی، ج۱، ص۱۶۱، طبع حیدر آباد ۱۳۲۱ ھ)

تفسیر کشاف میں علامہ زمخشری لکھتے ہیں: 

’’اگر تم کہو کہ نبیؐ آخری نبی کیسے ہوئے جبکہ عیسیؑ آخری زمانے میں نازل ہوں گے؟ تو میں کہوں گا کہ آپؐ کا آخری نبی ہونا اس معنی میں ہے کہ آپؐ کے بعد کوئی شخص نبی نہ بنایا جائے گا اور عیسیؑ ان لوگوں میں سے ہیں جو آپ ؐ سے پہلے نبی بنائے جا چکے تھے، اور جب وہ نازل ہوں گے تو شریعت ِ محمدیہ کے پیرو اور آپؐ کے قبلے کی طرف نماز پڑھنے والے کی حیثیت سے نازل ہوں گے، گویا کہ وہ آپ ﷺ ہی کی امت کے ایک فرد ہیں‘‘۔

 (تفسیر کشاف، ج۲، ص۲۱۵)

امام بیضاویؒ بھی خاتم النبیین کی یہی تشریح کرتے ہیں: 

’’آپؐ انبیاء میں سے آخری ہیں، جس سے انبیاء ؑ کے سلسلے پر مہر لگ گئی ہے، اور عیسیؑ کا آپؐ کے بعد نازل ہونا اس ختم ِ نبوت میں قادح نہیں ہے، کیونکہ جب وہ نازل ہوں گے تو آپؐ ہی
کے دین پر ہوں گے‘‘۔ (انوار التنزیل، ج۴، ص۱۶۴)

دنیائے اسلام کا جائزہ لیں توہندوستان سے لیکر مراکش اور اندلس اور ترکی سے لیکر یمن تک ہر صدی میں ہر مسلمان ملک کے اکابر علماء فقہاء اور محدثین و مفسرین متفقہ طور پر ’’خاتم النبیین ‘‘ کے معنی آخری نبی ہی سمجھتے رہے ہیں، حضور ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند تسلیم کرنا ہر زمانے میں تمام مسلمانوں کا متفق علیہ عقیدہ رہا ہے، اور اس امر میں مسلمانوں کے درمیان کبھی کوئی اختلاف نہیں رہا ہے کہ جو شخص محمد ﷺ کے بعد رسول یا نبی ہونے کا دعویٰ کرے اور جو اس کے دعوے کو مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔(دیکھیے: تفہیم القرآن، ج۴، ص۱۵۱)

سوچنے کا مقام ہے کہ نبوت ایک بہت ہی نازک معاملہ ہے، جس میں ذرا سی کوتاہی کفر تک پہنچا دیتی ہے، اسی لیے اللہ تعالی نے اس معاملے کو نہ اپنی کتاب میں مبہم چھوڑا ہے نہ اپنے نبی کی احادیث میں۔ صحابہ اکرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع بھی امت کے سامنے ہے، اور اس کے بعد کی پوری تاریخ بھی، جب کہیں بھی کسی جھوٹے مدعی نبوت کو جڑ پکڑنے نہیں دیا گیا، کیونکہ یہ کفر اور ایمان کا معاملہ ہے۔

ختم ِ نبوت امت ِ مسلمہ کے لیے بہت بڑی رحمت ہے، اس کی موجودگی میں امت میں ایک عالمگیر وجود اور عالمی برادری بنی ہے۔اگر نبوت کا دروازہ حتمی طور پر بند نہ ہوتا تو امت کو یہ وحدت حاصل نہ ہو سکتی تھی۔

📌 میں کلمہ طیبہ لآالٰہ الّااللہ محمدرسول الله

 کا اقرار کرتے ہوئے  اپنے ایمان کی تجدید کرتی  ہوں کہ میں اللہ وحدہٗ لاشریک کو اپنا خالق و مالک اور معبودِ برحق سمجھتی ہوں…

📌 اس کی جانب سے نازل کردہ تمام انبیاء و رسل علیہم السلام اور ان پر نازل کردہ کتب کو برحق سمجھتی ہوں..

📌 میں اقرار کرتی ہوں کہ سیدالکونین، خاتم النبیین، ساقئ کوثر، شافع محشر، 

حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم الله  کے آخری رسول ہیں، نبوت و رسالت کا سلسلہ حضرت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر ختم ہوچکا ہے.. 

📌 آپ کے بعد کسی بھی نبوت کے دعویدار، ظلی یا ذیلی نبوت کے مدعی کو کافر، زندیق، کذاب اور واجب القتل سمجھتی ہوں..

📌 میں ایمان رکھتی ہوں کہ آپؐ کے بعد کسی دوسرے نبوت کے دعویدار بالخصوص زندیقِ زماں مرزا غلام احمد قادیانی ملعون کو نبی ماننے والے مرزائیوں اور مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے والے ہر شخص کو بلا جھجک کافر اور زندیق سمجھتی ہوں..

📌 میں ہر اس شاتم رسولﷺ کو آئینِ پاکستان اور حکم قرآن کی رو سے سزائے موت کا مطالبہ کرتی ہوں جس زندیق نے شان رسالتﷺ میں توہین کی ہو….

اشہد ان لآ الٰہ الّااللہ وحدہٗ لاشریک لہٗ و اشہد انّ محمداً عبدہٗ ورسولہٗ 

تاجِ و تختِ ختمِ نبوتؐ زندہ باد 

منکرینِ ختم نبوتؐ مردہ باد 

فداک ‌ابی ‌واُمّی یارسول‌اللہﷺ

قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق ”رب العالمین“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لئے ”رحمۃ للعالمین“ قرآن مجید کے لئے ”ذکر للعالمین“ اور بیت اللہ شریف کے لئے ”ھدی للعالمین“ فرمایا گیا ہے

عقیدہ ختم نبوت اسلام کا وہ بنیادی عقیدہ ہے جس میں معمولی سا شبہ بھی قابل برداشت نہیں‘ حضرت امام اعظم امام ابوحنیفہ کا قول ہے کہ:

”جو شخص کسی جھوٹے مدعی نبوت (نبوت کا دعویٰ کرنے والا) سے دلیل طلب کرے وہ بھی دائرہ اسلام سے خارج ہے“۔

کیونکہ دلیل طلب کرکے اس نے اجرائے نبوت (نبوت جاری ہے) کے امکان کا عقیدہ رکھا (اور یہی کفر ہے)

اسلام کی بنیاد :

اسلام کی بنیاد توحید ، رسالت اور آخرت کے علاوہ جس بنیادی عقیدہ پر ہے ‘ وہ ہے ”عقیدہ ختم نبوت“  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر نبوت اور رسالت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ آپ سلسلہ نبوت کی آخری کڑی ہیں۔ آپ کے بعد کسی شخص کو اس منصب پر فائز نہیں کیا جائے گا۔

ختم نبوت اسلام کی جان ہے :

یہ عقیدہ  اسلام کی جان ہے ‘ ساری شریعت اور سارے دین کا مدار اسی عقیدہ پر ہے‘ قرآن کریم کی یک سو سے زائد آیات اور آنحضرت کی سینکڑوں احادیث اس عقیدہ پر گواہ ہیں۔ اھل بیت ، تمام صحابہ کرام تابعین عظام، تبع تابعین، ائمہ مجتہدین اور چودہ صدیوں کے مفسرین ‘ محدثین ‘ متکلمین ‘ علماء اور صوفیاء (اللہ ان سب پر رحمت کرے) کا اس پر اجماع ہے۔ چنانچہ قرآن کریم میں ہے:

”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ ۔ (الاحزاب:۴۰)

ترجمہ:”حضرت محمد ا تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں‘ لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے آخری نبی ہیں“۔

تمام مفسرین کا اس پر اتفاق ہے کہ ”خاتم النبیین“ کے معنیٰ ہیں کہ: آپ  آخری نبی ہیں‘ آپ  کے بعد کسی کو ”منصب نبوت“ پر فائز نہیں کیا جائے گا۔ عقیدہ ختم نبوت جس طرح قرآن کریم کی نصوص قطعیہ سے ثابت ہے‘ اسی طرح حضور کی احادیث متواترہ سے بھی ثابت  ہے۔ چند احادیث ملاحظہ ہوں:

۱- میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کسی قسم کا نبی نہیں۔ (ابوداؤد ج:۲‘ ص:۲۲۸)

۲- مجھے تمام مخلوق کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھ پر نبیوں کا سلسلہ ختم کردیا گیا۔ (مشکوٰة:۵۱۲)

۳- رسالت ونبوت ختم ہوچکی ہے پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اور نہ نبی۔ (ترمذی‘ج:۲‘ص:۵۱)

۴- میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ (ابن ماجہ:۲۹۷)

۵- میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ (مجمع الزوائد‘ج:۳ ص:۲۷۳)

ان  ارشادات نبوی میں اس امرکی تصریح فرمائی گئی ہے کہ آپ آخری نبی اور رسول ہیں‘ آپ کے بعد کسی کو اس عہدہ پر فائز نہیں کیا جائے گا‘ آپ سے پہلے جتنے انبیاء علیہم السلام تشریف لائے‘ ان میں سے ہر نبی نے اپنے بعد آنے  والے نبی کی بشارت دی اور گذشتہ انبیاء کی تصدیق کی۔ آپ نے گزشتہ انبیاء  کی تصدیق تو فرمائی مگر کسی نئے آنے والے نبی کی بشارت نہیں دی۔ بلکہ فرمایا:

۱- قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ ۳۰ کے لگ بھک دجال اور کذاب پیدا نہ ہوں‘ جن میں سے ہرایک یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔

0- قریب ہے کہ میری امت میں ۳۰ جھوٹے پیدا ہوں‘ ہرایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں‘ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں‘ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ان دو ارشادات میں حضرت محمد  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  نے ایسے ”مدعیان نبوت“ (نبوت کا دعویٰ کرنے والے) کے لئے دجال اور کذاب کا لفظ استعمال فرمایا‘ جس کا معنیٰ ہے کہ: وہ لوگ شدید دھوکے باز اور بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے ہوں گے‘ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرکے مسلمانوں کو اپنے دامن فریب میں پھنسائیں گے‘ لہذا امت کو خبردار کردیا گیا کہ وہ ایسے عیار و مکار مدعیان نبوت اور ان کے ماننے والوں سے دور رہیں۔ آپ کی اس پیشنگوئی کے مطابق ۱۴۰۰ سو سالہ دورمیں بہت سے کذاب اور دجال مدعیان نبوت کھڑے ہوئے جن کا حشر تاریخ اسلام سے واقفیت رکھنے والے خوب جانتے ہیں۔ماضی قریب میں ”قادیانی دجال“ (مرزا غلام احمد قادیانی) نے بھی نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا‘ خدا نے اس کو ذلیل کیا۔ اس لئے یہ ”ختم نبوت“ امت محمدیہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عظیم رحمت اور نعمت ہے‘ اس کی پاسداری اور شکر پوری امت محمدیہ پر واجب ہے۔

تبصرہ کریں

Discover more from مکتب علوم شریعت

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

پڑھنا جاری رکھیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں