قرآن کریم میں سورۃ النساء کی تین آیات ( 11، 12 ،176) میں وراثت کے تفصیلی احکام بیان کیے گئے ہیں، جن کی مزید وضاحت صحیح احادیث میں کی گئی ہے۔
ان آیات کے مفہوم سے وراثت کی مکمل تفصیل معلوم ہو جاتی ہے۔
قریبی رشتہ داروں کی وفات کے بعد ان کے چھوڑے گئے، تھوڑے یا زیادہ مال میں، عورتوں اور مردوں کا حصہ ہے۔زمانہ جہالت میں عرب وراثت کے مال سے عورتوں کو حصہ نہیں دیتے تھے بلکہ ان کے نزدیک خود عورت کی حیثیت وراثت کے مال جیسی تھی۔ الله تعالی نے قرآن مجید میں نہ صرف وراثت میں عورت کا حصہ مقرر کیا بلکہ اسی کو پیمانہ بنایا۔
وراثت کی تقسیم سے پہلے دو کام کرنے لازم قرار دئیے گئے ہیں۔
۱- اگر میت نے کوئی وصیت کی ہو تو پہلے اسے پورا کیا جائے۔
۲- اگر میت پر کوئی قرض ہو تو پہلے اسے ادا کیا جائے۔
مال کی تقسیم کے وقت اگر خاندان کے یتیم اور مسکین بھی موجود ہوں تو انہیں بھی اس مال میں سے دینا چاہیے۔ یہ سوچ کر ان سے نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے کہ اگر وہ خود چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑ کر مر گئے ہوتے تو ان کی اولاد کا کیا بنتا۔ وراثت کا مال تقسیم کرنے والوں کو خوفِ خدا کا احساس دلایا گیا ہے تاکہ یتیموں کے حق میں کوتاہی نہ کی جائے۔ یتیم کا مال کھانا اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرنے جیسا ہے۔
مالِ وراثت کی تقسیم کے سلسلے میں فرمایا کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے۔ اگر مرنے والا مرد ہے اور اس کی دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے گا۔ اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔ اگر میت کی اولاد میں لڑکے لڑکیاں دونوں ہوں تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملنا چاہیے۔ اگر مرنے والے کی کوئی اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصہ دیا جائے گا اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہو گی۔
اگر مرنے والی عورت ہو تو اس کے شوہر کو اس کے ترکہ سے آدھا حصہ ملے گا بشرطیکہ وہ بے اولاد ہوں۔ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ شوہر کا ہے۔
میت کی بیوی یا بیویاں ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر وہ بے اولاد ہوں۔ صاحبِ اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہو گا۔
اگر مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہو) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں ، مگر اس کا بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے۔
ایسا بے اولاد شخص جس کے والدین بھی مر چکے ہوں اسے کلالہ کہتے ہیں۔ اگر ایسے شخص کی ایک بہن ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی۔
اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہو گا۔ اگر میت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی، اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا ایک حصہ اور مردوں کا دوہرا حصہ ہو گا۔ اللہ تعالی نے وراثت کے تمام احکام کھول کر تفصیل سے بیان کر دئیے تاکہ لوگ بھٹکتے نہ پھریں۔ بے شک اللہ سبحانہ و تعالی ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تمہاری اولاد کے بارے میں تم کو ارشاد فرماتا ہے کہ ایک لڑکے کا حصہ دو لڑکیوں کے حصے کے برابر ہے۔ اور اگر اولاد میت صرف لڑکیاں ہی ہوں یعنی دو یا دو سے زیادہ تو کل ترکے میں ان کا دو تہائی ہے۔ اور اگر صرف ایک لڑکی ہو تو اس کا نصف ہے۔ اور میت کے ماں باپ کا یعنی دونوں میں سے ہر ایک کا ترکے میں چھٹا حصہ ہے۔ بشرطیکہ میت کے اولاد ہو اور اگر اولاد نہ ہو اور صرف ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں تو ایک تہائی ماں کا حصہ ہے۔ اور اگر میت کے بھائی بھی ہوں تو ماں کا چھٹا حصہ ہو گا اور یہ تقسیم ترکہ میت کی وصیت کی تعمیل کے بعد جو اس نے کی ہو یا قرض کے ادا ہونے کے بعد جو اس کے ذمہ ہو عمل میں آئے گی تم کو معلوم نہیں کہ تمہارے باپ دادوں اور بیٹوں پوتوں میں سے فائدے کے لحاظ سے کون تم سے زیادہ قریب ہے یہ حصے اللہ کے مقرر کئے ہوئے ہیں اور اللہ سب کچھ جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔
آیت:۱۱
یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ (النساء-13) اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن سزا ہے۔ النساء ۔ 14
۔۔۔۔
آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ”لڑکے کو دو لڑکیوں کے برابر حصہ دیا جائے گا“ یعنی ایک لڑکا لڑکی ایک ایک یا کئی کئی ملی جلی ہوں تو ان کے حصوں میں باہم یہ نسبت ہوگی کہ ہرلڑکے کو دوہرا اور ہرلڑکی کو اکہرا حصہ ملے گا۔ قرآن مجید نے لڑکیوں کو حصہ دلانے میں اس قدر اہتمام کیا ہے کہ لڑکیوں کے حصہ کو اصل قرار دے کر اس کے اعتبار سے لڑکوں کا حصہ بتلایا ہے، اور بجائے ”للأنثیین مثل حظ الذکر“ کے الفاظ سے فرمانے کے ”للذکر مثل حظ الأنثیین“ کے الفاظ سے تعبیر فرمایا ہے، جو لوگ بہنوں کو حصہ نہیں دیتے، اور وہ یہ سمجھ کر بادلِ ناخواستہ شرماشرمی معاف کردیتی ہیں کہ ملنے والا تو ہے ہی نہیں تو کیوں بھائیوں سے برائی لیں، ایسی معافی شرعاً معافی نہیں ہے، ان کا حق بھائیوں کے ذمہ واجب رہتا ہے، یہ میراث دبانے والے سخت گناہ گار ہیں، ان میں بعض بچیاں نابالغ بھی ہوتی ہیں ان کو حصہ نہ دینا دوہرا گناہ ہے، ایک گناہ وارث شرعی کے حصہ کو دبانے کا اور دوسرا یتیم کے مال کو کھانے کا۔ (معارف القرآن: ۱/۳۱۹ تا ۳۳۱، سورہٴ نساء: پ:۴) (۲)
یَسْتَفْتُوْنَکَ فِیْ النِّسَآءِ إلخ․ اس آیت کریمہ کا الگ سے کوئی شان نزول نہیں، بلکہ ضمناً خود اس آیت کریمہ سے ہی سمجھ میں آرہا ہے، وہ یہ ہے کہ صحابہٴ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وراثت کلالہ کے متعلق مسائل دریافت کیے تھے، تو اس وقت یہ مکمل آیت کریمہ نازل ہوئی۔ تفسیر: اس آیت کریمہ میں کلالہ کی میراث کا مسئلہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ، لوگ آپ سے میراثِ کلالہ کے باب میں حکم دریافت کرتے ہیں، آپ جواب میں فرمادیجیے کہ اللہ تم کو کلالہ کے باب میں حکم دیتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر کوئی مرجائے، جس کی اولاد نہ ہو، یعنی نہ مذکر نہ موٴنث، اور نہ ماں باپ ہوں، اور اس کے ایک عینی یا علاتی بہن ہو، تو اس بہن کو اس کے تمام ترکہ کا نصف ملے گا، یعنی بعدِ حقوق متقدمہ، اور بقیہ نصف اگر کوئی عصبہ ہوا تو اس کو دیا جائے گا ورنہ پھر اسی پر رد ہوگا، اور وہ شخص اپنی بہن کا وارث کل ترکہ کا ہوگا، اگر وہ بہن مرجائے اوراس کے اولاد نہ ہو اوروالدین بھی نہ ہوں، اور اگر ایسی بہنیں دو یا زیادہ ہوں تو ان کو اس کے ترکہ میں سے دو تہائی ملیں گے، اورایک تہائی عصبہ کو، ورنہ بطورِ رد کے انھیں کو مل جائے، اور اگر ایسی میت کے جس کے اولاد نہ ہو، نہ والدین ہوں خواہ وہ میت مذکر ہو یا موٴنث، وارث چند یعنی ایک سے زیادہ ایسے ہی بھائی بہن ہوں، مرد اور عورت تو ترکہ اس طرح تقسیم ہوگا کہ ایک مرد کو دو عورتوں کے حصہ کے برابر، یعنی بھائی کو دوہرا، بہن کو ا کہرا، لیکن عینی بہن سے علاتی بھائی بہن سب ساقط ہوجاتے ہیں، اور عینی بہن سے کبھی وہ ساقط ہوجاتے ہیں کبھی حصہ گھٹ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ تم سے دین کی باتیں اس لیے بیان کرتے ہیں کہ تم ناواقفی سے گمراہی میں نہ پڑو، یہ تو تذکیر واحسان ہے، اور اللہ تعالیٰ ہرچیز کو خوب جانتے ہیں، پس احکام کی مصلحتوں سے بھی مطلع ہیں، اور احکام میں ان کی رعایت کی جاتی ہے، یہ حکمت کا بیان ہے۔ (معارف القرآن: ۲/۶۲۶، ۶۲۷، سورہٴ نساء، پ:۶)
- اصحابِ فرائض کے بعد عصبہ نسبی حصہ پاتے ہیں۔ یہ میت کے وہ ورثاء ہیں جن کو اصحابِ فرائض سے بچا ہوا تمام مال مل جاتا ہے اور اصحابِ فرائض نہ ہونے کی صورت میں تمام ترکہ ہی ان کو ملتا ہے۔ عصبہ کی دوقسمیں ہیں: عصبہ نسبی اور عصبہ سببی‘ عصبہ نسبی وہ ہیں جن کا میت سے ولادت کا تعلق ہو اور عصبہ سببی وہ ہیں جن کا میت سے عتاق (غلامی) کا تعلق ہو۔ لیکن آج کل عصبہ کی یہ دوسری قسم ختم ہو چکی ہے۔ عصبہ نسبی کی مزید تین اقسام ہیں:عصبہ بنفسہ، عصبہ بغیرہ اور عصبہ مع غیرہ۔
- اصحابِ فرائض اور عصبہ نسبی نہ ہوں تو ترکہ عصبہ سببی کو ملتا ہے۔ عصبہ سببی، غلام کو آزاد کرنے والا ہے جو آج کل نہیں ہے۔
- اگر کسی بھی قسم کے عصبہ نہ ہوں تو باقی مال دوبارہ نسبی اصحابِ فرائض میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔ اس عمل کو رد کہتے ہیں لیکن اس میں زوجین کو شامل نہیں کیا جاتا کیونکہ یہ سببی یعنی رشتہ زوجیت کے سبب وارث ہوتے ہیں۔
- اگر اصحابِ فرائض اور عصبات میں سے کوئی وارث زندہ نہ ہو تو ذوی الارحام کو ترکہ ملتا ہے۔ یہ میت کے وہ رشتہ دار ہیں جن کا حصہ قرآن وحدیث میں مقرر نہیں ہے، نہ اجماع سے طے پایا ہے اور نہ وہ عصبات ہیں، جیسے پھوپھی، خالہ، ماموں، بھانجہ اور نواسہ وغیرہ۔
- اگر ذوی الارحام بھی نہ ہوں تو مولی الموالات کو ترکہ ملتا ہے۔ فقہ کی اصطلاح ایک خاص قسم کے معاہدہ کو موالات کہتے ہیں۔ میراث میں یہ عقد احناف کے ہاں معتبر ہے جبکہ شوافع کے نزدیک معتبر نہیں ہے۔ اس کے مولی بننے کی کچھ شرائط ہیں لیکن یہاں تفصلات میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔
- مذکورہ بالا ورثاء میں سے کوئی نہ ہو تو وہ شخص وارث ہو گا جس کے لیے میت نے اپنے غیر سے نسب کا اقرار کیا ہو یعنی کسی مجہول النسب کے بارے میں یہ کہا ہو کہ یہ میرا بھائی یا چچا ہے، اور اس کے اس اقرار سے اس کا نسب اس غیر سے ثابت نہ ہوا ہو، اور اقرار کرنے والے نے اپنے اقرار سے موت تک رجوع بھی نہ کیا ہو تو وہ مقرلہ بھائی یا چچا ہونے کی حثیت سے وارث ہو گا۔ اس کی بھی کچھ شرائط ہیں۔
- اگر مذکورہ بالا ورثاء میں سے کوئی نہ ہو اور میت نے کسی کے لیے ایک تہائی سے زائد یا سارے ترکہ کی وصیت کی ہو تو تہائی سے زائد یا سارا ترکہ اسی کو دے دیا جائے گا۔
- اگر مذکورہ بالا تمام لوگوں میں سے کوئی بھی نہ ہو تو میت کا ترکہ بیت المال میں جمع کروا دیا جائے گا۔
آخر میں ایک قابل توجہ بات بیان کرنا ضروری ہے کہ وراثت سے حصہ پانے کے لیے وارث اور مورث کا دین ایک ہونا ضروری ہے کیونکہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
لاَ يَرِثُ المُسْلِمُ الكَافِرَ وَلاَ الكَافِرُ المُسْلِمَ.
مسلمان کسی کافر کا وارث نہیں ہوتا اور نہ ہی کافر کسی مسلمان کا وارث ہو سکتا ہے۔
بخاري، الصحيح، كتاب الفرائض، باب لا يرث المسلم الكافر ولا الكافر المسلم وإذا أسلم قبل أن يقسم الميراث فلا ميراث له، 6: 2484، رقم: 6383
مذکورہ بیان کردہ ترتیب سے ہی ورثاء میں حصے تقسیم کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ بعض اوقات کچھ ورثاء کی موجودگی میں کچھ دوسرے ورثاء محروم ہوجاتے ہیں، جیسے قریبی وارث کی موجودگی میں دور والا وارث محروم ہو جاتا ہے۔
