یہ فرق بتانے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ بہت سے دوست ان دونوں کو مکمل طور پر ہم معنی مترادف سمجھتے ہیں حالانکہ کسی بھی زبان کے دو مترادف لفظ کبھی بھی مکمل طور پر ہم معنی نہیں ہوتے ، اسی طرح بہت سے دوستوں کو اس فرق میں جہلِ مرکب درپیش ہے کہ وہ رازدان کا وہ مفہوم سمجھتے ہیں جو درحقیقت رازدار کا ہے۔
درست فرق یہ ہے کہ "دان” دانستن (جاننا) سے ہے تو "راز دان” کا مطلب ہے راز کو جاننے والا ، خواہ وہ بااعتماد ہو یا نہ ہو جیسے زبان دان اور نکتہ دان، جبکہ "دار” داشتن (رکھنا) سے ہے تو "راز دار” کا مطلب ہے راز رکھنے والا ، یعنی راز کو بحفاظت اپنے پاس رکھنے والا جیسے ایمان دار اور امانت دار۔
اس لیے وہ راز دان جو باعتماد بھی ہو اسے راز دار کہتے ہیں ورنہ فقط راز دان کہتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ بات کو خفیہ طریقے سے کرنے کے لیے "راز داری سے بات کرنا” کہتے ہیں نہ کہ راز دانی سے۔
راز دار اور راز دان کا لفظی فرق سمجھنے کے لیے راز کی جگہ نا لگادیں ، نادار اور نادان بن جائیں گے۔
نادار: جس کی جیب میں کچھ نہ ہو۔
رازدار: جس کے سینے میں راز ہو۔
نادان: جسے کچھ معلوم نہ ہو۔
رازدان: جسے راز معلوم ہو۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
