نہ اور نا میں فرق

"نہ” فقط حرف نفی ہے ، کسی مرکب کا حصہ بنے بغیر آتا ہے جیسے نہ کرو ، نہ کیا ، نہ یہ نہ وہ۔ اس کا عروضی وزن 1 ہے۔

"نا” کے متعدد معانی ہیں:

(1) نفی ، فقط مرکب میں جیسے نامناسب ، نااہل ، ناخلف ، ناجائز

(2) اصرار و تاکید جیسے کرو نا ، نا بابا ، یہ دوست ہے نا

(3) مصدریہ جیسے کرنا جانا لینا دینا (4) استفسار کے لیے جیسے تم نے یہ کرلیا نا آخر۔ اس کا عروضی وزن 2 ہے۔

بعض نو آموز شعراء نہ کو 2 باندھنے کے لیے نا لکھ دیتے ہیں جیسے:
"نا تم نے کچھ کہا ہے نہ میں کہا ہے کچھ”
اس مصرع کے اندر "نا” میں دو غلطیاں ہیں:
(1) املائی کہ اسے "نہ” لکھنا تھا۔
(2) عروضی کہ اسے 1 باندھنا تھا۔

"نہ” اور "نا” میں فرق


یہ دونوں لفظ حرفِ نفی کہلاتے ہیں ، ان میں دو لحاظ سے فرق ہے:

(1) معنوی فرق:
"نہ” صرف نفی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
جبکہ "نا” کے مختلف معانی ہیں جیسے:
۔ ۔ ۔ 1) نفی: جیسے "نہ کر”
۔ ۔ ۔ 2) تاکیدِ نفی: جیسے "نا بابا”
۔ ۔ ۔ 3) تاکید اثبات: جیسے "جانے دیجیے ، بچہ ہے نا”
۔ ۔ ۔ 4) مصدریت جیسے "کھانا ، پینا ، سونا ، جاگنا”
۔ ۔ ۔ 5) حسنِ کلام کے لیے: جیسے "چلونا ، آؤ نا”

(2) استعمالی فرق:
"نا” نافیہ کا استعمال انفرادی طور پر ٹھیک نہیں ہے لہذا "نا کرو” کہنا غلط ہے ، جبکہ "نہ” کو انفرادی طور پر استعمال کیا جاتا ہے ، جیسے "نہ اس نے کھایا نہ میں نے” یہاں "نا” نہیں لکھ سکتے ، "نامعلوم ، نادان ، ناسمجھ ، ناکارہ ، نازیبا” یہاں "نہ” نہیں لاسکتے۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

تبصرہ کریں

Discover more from مکتب علوم شریعت

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

پڑھنا جاری رکھیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں