حروفِ اصلیہ


عربی زبان کے تقریبا تمام الفاظ میں کچھ حروف اصلی ہوتے ہیں باقی سب زائد ہوتے ہیں ، جیسے کتاب ، کاتب ، مکتوب ، مکتب ، مکتبہ اور کتبہ میں ک ت ب حروفِ اصلیہ ہیں اور باقی حروف زائد ہیں۔

حروفِ اصلیہ کو پہچاننے کے تین طریقے

پہلا طریقہ


لفظ کا تین حرفی ایسا لفظ بنائیں جو مشہور ہو اور اس میں معنویت بھی یہی والی موجود ہو جیسے تعلیم سے تین حرفی لفظ علم ہے اور معاملہ سے عمل تو بس یہی تین حروف ان کے حروفِ اصلیہ ہیں۔

دوسرا طریقہ


حروفِ زوائد دس ہیں جن کا مجموعہ ہے: "سألتمونیھا” ، تو جو حرف ان میں سے نہ ہو وہ لازما اصلی حرف ہوگا جیسے منفرد لفظ کے اندر ف ر د ایسے ہیں جو سألتمونیھا میں سے نہیں ہیں لہذا یہ تینوں منفرد کے حروفِ اصلیہ ہیں۔
اگرچہ یہ طریقہ ہر لفظ میں کام نہیں آتا مگر اکثر کام آجاتا ہے۔

تیسرا طریقہ


ثلاثی مجرد سے ماضی مطلق کا سب سے پہلا صیغہ بنائیں ، اس میں جتنے اور جو حروف ہوں گے وہ سب اصلی ہوں گے ، جیسے کتاب کے حروفِ اصلیہ ک ت ب ہیں کہ اس کا ماضی کا پہلا صیغہ کَتَبَ ہے، اسی طرح يُقِيْمُوْنَ کا ماضی کا پہلا صیغہ قَامَ ہے جوکہ اصل میں قَوَمَ تھا لہٰذا اس کے حروفِ اصلیہ ق و م ہیں۔ مگر یہ طریقہ علم الصرف سے واقفیت رکھنے والوں کے لیے مفید ہے۔

حروفِ اصلیہ کو مزید اچھی طرح سمجھنے کے لیے کمنٹ میں دیے گئے لنک پر کلک کرکے ویڈیو دیکھ لیں۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

تبصرہ کریں

Discover more from مکتب علوم شریعت

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

پڑھنا جاری رکھیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں