(1) مضمون میں موضوع کی قید ہوتی ہے ، انشائیہ اس قید سے آزاد ہوتا ہے۔
(2) مضمون میں عالمانہ اور محققانہ انداز اختیار کیا جاتا ہے جبکہ انشائیہ میں مؤثر انداز بیان اختیار کرکے بات کی جاتی ہے۔ بالفاظ دیگر مضمون میں معلومات فراہم کی جاتی ہیں اور انشائیے میں تاثرات کو مد نظر رکھا جاتا ہے۔
(3) مضمون کی ہیئت مخصوص ہے یعنی پہلے تعارفی بات ، پھر نفس مضمون ، پھر اختتامیہ ، جبکہ انشائیہ میں اس ہیئت کا التزام نہیں ہوتا ، بلکہ ایک غیر رسمی سا اسلوب اختیار کیا جاتا ہے۔
(4) مضمون کسی قدر خشک ہوتا ہے اور قاری کی ذاتی دل چسپی ہی اسے مضمون کی جانب متوجہ کرتی ہے ، جبکہ انشائیہ اپنے دل چسپ انداز بیان کے ذریعے قاری کی توجہ اول تا آخر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
(5) مضمون میں مزاح کی بھی بھرپور گنجائش ہے ، جبکہ انشائیہ میں طنز اور مزاح کا عنصر کم سے کم رکھا جاتا ہے۔
(6) انشائیہ کے بارے میں اگر مضمون لکھا جائے تو معلومات کو یکجا کرنے کے لیے کئی کتب اور حوالہ جات کا سہارا لینا ناگزیر ہوگا ، جبکہ مضمون کے بارے میں اگر انشائیہ لکھنا ہو تو کسی کتاب کو کھولنے کی ضرورت نہیں ، بلکہ لکھنے والا مضمون کے بارے میں اپنے اب تک کے تاثرات کو انشائیہ کی صورت میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کرسکتا ہے۔
