جو کچھ ہم کام کرتے ہیں ، انھی کے نام کرتے ہیں
یہی خدام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
سنواریں قسمتیں سب کی ، اتاریں رحمتیں رب کی
چلو اک کام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
علی المشہود صلی اللہ ، علی المحمود صلی اللہ
ورودِ تام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
فرشتوں اور خدا کے ساتھ اگر پڑھنی ہو ہم کو نعت
تو اک اقدام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
سحر دم ذکرِ آقا سے بجھا کر پیاس ہم پیاسے
یوں اپنی شام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
تصور ہاتھ پھیلائے مکانِ دل میں جب آئے
تو ہم اکرام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
نبی کا فیض آتا ہے ، دلوں میں نور چھاتا ہے
خدا الہام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
سبھی دشمن سبھی پیارے ، تھکن سے چور ہیں سارے
بس اب آرام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
خدا کی یاد عزت ہے ، نبی کی نعت قسمت ہے
اسامہ! نام کرتے ہیں ، درودِ پاک پڑھتے ہیں
محمد اسامہ سَرسَری
