"کے” دو معانی کے لیے آتا ہے:
(1) "کا ، کی ، کے” والا "کے” ، یعنی مضاف کے جمع ہونے کی صورت میں حرفِ اضافت ، جیسے "ضیافت کے اضافے”
(2) دو فعلوں کے درمیان "کر” کے بجائے "کے” جیسے: "بیٹھ کے کھائیے” ، اصل میں تھا "بیٹھیے اور کھائیے” ، پھر اسے "بیٹھ کر کھائیے” کیا گیا ، پھر "بیٹھ کے کھائیے”
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جبکہ "کہ” درج بالا دو معانی کے سوا دیگر بہت سے معانی کے لیے آتا ہے ، جیسے بل ، جب ، چوں ، کیوں ، تا اور جو وغیرہ کے بعد ، نیز ان کے علاوہ بھی آتا ہے ، درج ذیل مثالوں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے:
٭٭ کہہ دو کہ یہ جھوٹ ہے۔
٭٭ وہ آیا کہ نہیں؟
٭٭ جہاں ہوا کانوں میں گھسی کہ زکام آ لیتا ہے۔
٭٭ خیال رہے کہ وہ بندہ ٹھیک نہیں ہے۔
٭٭ ایسا شعر کہا کہ سب خوش ہوگئے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عروضی لحاظ سے ان دونوں کو 2 یا 1 باندھا جاسکتا ہے ، البتہ "کے” کو 2 باندھنا زیادہ بہتر ہے اور "کہ” کو 1 باندھنا مستحسن ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرؔسَری
