کلامِ موزوں اور شعر میں فرق

٭٭ "وزن” محض ایک آلہ ہے ، شاعری اس سے بہت آگے کی چیز ہے۔

٭٭ "وزن” وہی شخص سیکھ سکتا ہے جس کی طبیعت موزوں ہو۔

٭٭ علم عروض باقاعدہ ایک علم ہے ، اسے مکمل حاصل کرنا ایک شاعر کے لیے قطعا ضروری نہیں ہے۔ محض اتنا علم بھی کافی ہے کہ "کوئی امید بر نہیں آتی” کس وزن پر ہے ، بحر کا نام اور زحافات وغیرہ کا علم غیر ضروری ہے۔

٭٭ علم عروض میں باقاعدہ لگنا اور اسے مکمل سیکھنا بلاشبہ ادب کی خدمت کا ایک حصہ ہے۔

٭٭ کسی کے شاعر ہونے کے لیے یہی علامت بہت ہے کہ وہ از خود اشعار لکھنے لگ جائے ، پھر بعد میں اسے معلوم ہو کہ وزن بھی کچھ ہوتا ہے اور وہ اب تک بے وزن مگر کسی قدر گنگناہٹ کے ساتھ لکھتا رہا ہے ، معمولی سی کوشش سے یہ شخص وزن سیکھ سکتا ہے ، پھر اسے معلوم ہوگا کہ یہ اب تک قافیہ و ردیف کی بھی بہت سی غلطیوں سے ناواقف ہے ، دیگر عیوب سخن بھی پھر اس کے سامنے آتے ہیں اور مطالعہ و اصلاح سے یہ شخص اپنی شاعری میں نکھار پیدا کرتا چلا جاتا ہے ، خود بندے نے وزن سے واقفیت سے پہلے ایک عدد دیوان لکھ ڈالا تھا جو آج بھی محفوظ ہے اور خارج از وزن ہونے کے علاوہ کئی دیگر اسقام پر مشتمل ہے۔ 🙂

٭٭ وزن اور شعر کے معاملے میں دو انتہائیں دیکھنے میں آئی ہیں:

(1) بعض لوگ شاعری کو چھوڑ کر ہر وقت وزن اور عروض میں لگے رہتے ہیں ، ان کی وجہ سے تمام وہ شعراء بھی بدنام ہوجاتے ہیں جو اچھے شاعر ہونے کے علاوہ علم عروض کے بھی ماہر ہوتے ہیں۔

(2) بعض دوسری انتہاء کے لوگ ہر وقت وزن اور عروض کی برائی کرنے مصروف رہتے ہیں ، حتی کہ اگر کسی جگہ عروض کی کوئی ایک بات زیرِ بحث ہو تو وہاں بھی وہ وزن کی مخالفت میں اپنے دیرینہ دلائل کی پٹاری کے ساتھ آ دھمکتے ہیں اور ثابت کرنے لگتے ہیں کہ شاعر کے لیے علم عروض ضروری نہیں ، کاش انھیں کوئی سمجھا سکے کہ شاعر کے لیے تو عروضیوں کی دشمنی بھی اسی طرح غیر ضروری ہے۔ 🙂
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

تبصرہ کریں

Discover more from مکتب علوم شریعت

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

پڑھنا جاری رکھیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں