پر” اور "پے” دو الگ الگ لفظ ہیں۔
"پر” اردو میں درج ذیل معانی کے لیے استعمال ہوتا ہے:
(1) مگر
(2) کیونکہ
(3) اوپر
اسی طرح لفظ "پے” بھی متعدد معانی کے لیے مستعمل ہے ، ان میں سے دو یہ ہیں:
(1) "پٹھا” جیسے "رگ و پے”
(2) "پیچھے” جیسے "پے در پے” ، پھر اسے مزید مختصر کرکے "پیاپے” کہا جاتا ہے۔
لفظ "پر” کو شعراء جب شعر میں لاتے ہیں تو اگر ہجائے بلند کا موقع ہو تو "پر” ہی لکھتے ہیں اور اگر ہجائے کوتاہ کے طور پر لانے کی نوبت آجائے تو "پہ” کردیتے ہیں ، گویا "پہ” مخفف ہے "پر” کا ، اس لیے جب ہجائے بلند ہی باندھنا ہو تو "پر” ہی لکھنا چاہیے ، نہ کہ "پہ” کیونکہ "پہ” کو اگر ہجائے بلند کرکے پڑھتے ہی تو یہ "پے” بن جاتا ہے جو کہ "رگ و پے” اور "پے در پے” ہی میں ٹھیک لگتا ہے۔
اشعار سے مثالیں ملاحظہ فرمائیں:
بس کہ روکا میں نے اور سینے میں اُبھریں پَے بہ پَے
میری آہیں بخیئہ چاکِ گریباں ہو گئیں
(غالب ، پے بہ پے)
کماں ہم بھی رگ و پے رکھتے ہیں، انصاف بہتر ہے
نہ کھینچے طاقتِ خمیازہ تہمت ناتوانی کی
(غالب ، رگ و پے)
تیری وفا سے کیا ہو تلافی؟ کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
(غالب ، پہ بمعنی اوپر)
عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلےٰ مرے آگے
(غالب ، پہ بمعنی مگر)
گھر جب بنا لیا ترے در پر کہے بغیر
جانے گا اب بھی تو نہ مرا گھر کہے بغیر؟
(غالب ، پر بمعنی ظرف)
آتا ہے میرے قتل کو پَر جوشِ رشک سے
مرتا ہوں اس کے ہاتھ میں تلوار دیکھ کر
(غالب ، پر بمعنی مگر)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں ایک توجیہ اور بھی سامنے آئی ہے کہ "پے” مخفف ہے سنسکرتی لفظ "پرے” بمعنی "اوپر” کا ، اگر یہ توجیہ درست مان لی جائے تو "پر” کی جگہ "پے” لکھنے میں بھی بظاہر کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
