نظم اور غزل میں فرق

لفظ "نظم” دو الگ الگ معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

(1) کلام کی دو قسمیں ہیں ، نظم اور نثر ، یعنی کلام میں اگر وزن کا خیال رکھا جائے اسے نظم کہتے ہیں ورنہ نثر کہتے ہیں ، اس معنی کے لحاظ سے نظم میں تمام اصناف (نظم ، غزل ، قطعہ ، رباعی ، مثنوی) شامل ہیں۔

(2) ہیئت کے لحاظ سے نظم کی متعدد اقسام ہیں: بیت ، نظم (آزاد/پابند) ، غزل ، قطعہ ، رباعی وغیرہ۔
اس لحاظ سے "نظم” اور "غزل” دو الگ الگ اصناف ہیں۔

شعراء حضرات کے مجموعہ ہائے کلام عام طور پر تین ابواب پر منقسم ہوتے ہیں:
(الف) نظمیں (ب) غزلیں (ج) قطعات و رباعیات
یہاں "نظموں” میں پابند نظم ، آزاد نظم ، قصیدہ ، مثنوی وغیرہ سب شامل ہوتے ہیں ، بعض لوگ ہیئت کے لحاظ سے ہر ہر صنف کو الگ الگ بھی رکھ لیتے ہیں۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

تبصرہ کریں

Discover more from مکتب علوم شریعت

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

پڑھنا جاری رکھیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں