نثری نظم اور نثری شاعری میں فرق

ایسا کلام جس میں آہنگ کا بالکل خیال نہ کیا جائے , اسے "نثری شاعری” یا "شاعرانہ نثر” تو کہہ سکتے ہیں ، مگر "نثری نظم” یا "منظوم نثر” کا نام دینا لغت اور اصطلاحاتِ عروض دونوں لحاظ سے نا انصافی ہے۔

حالی صاحب نے بھی وزن کو جب غیر مشروط قرار دیا تو وہاں تذکرہ شعر کا تھا نہ کہ نظم کا۔

تاہم یہاں ایک پہلو اور قابلِ غور ہے ۔ ۔ ۔

وہ یہ کہ اصطلاحات کے وجود میں آنے میں سب سے زیادہ مؤثر چیز "استعمالاتِ عوام” ہے ، جس کے آگے تمام اہل حل و عقد بھی ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور دیکھنے میں یہی آرہا ہے کہ "نثری نظم” نام بہت کثرت سے استعمال ہورہا ہے ، اگرچہ مشاہدہ یہ بھی بتارہا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو وزن اور آہنگ کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں ، کہ ان کی طبعیت ہی موزوں نہیں ہے ، جیسے اگر کوئی شخص منطقی ذہن نہ رکھتا ہو تو وہ فلسفہ پڑھنے میں کبھی کام یاب نہیں ہوسکتا ، لیکن "نثری نظم” کہنے والوں سے بہت زیادہ الجھنا اور بحث و مباحثہ کو راہ دینا بھی ٹھیک نہیں ہوگا کہ اس سے نہ صرف صنفِ ادب کو نقصان ہوگا بلکہ "وصفِ ادب” میں بھی کمی آئے گی۔

یہ لوگ شوق سے "نثری نظم” لکھیں ، ہم اسے "نثری شاعری” ہی لکھا کریں ، اب ان میں سے کوئی ایک اصطلاح مقبول ہوتی ہے یا دونوں ، اسے ہم "وقت” کے فیصلے پر چھوڑ دیتے ہیں۔ 🙂

ایک بات یہ بھی ہے کہ آہنگ "نظم” کا لازمی جزو بھی نہیں ہے ، بلکہ جس طرح کسی بھی معاملے میں اگر ترتیب منظم ہو تو وہاں بھی نظم و ضبط کے لحاظ سے تعریف ہی کی جاتی ہے ، اسی طرح کلام بھی دو لحاظ سے منظم ہوتا ہے ایک آہنگ اور دوسرا معنویت ، اگر "نثری شاعری” میں معنویت بھرپور ہو تو اس لحاظ سے اسے "نثری نظم” کہنا بھی کچھ غلط نہیں ہے کہ اس صورت میں "نثری” کا مطلب کلام میں آہنگ کا نہ ہونا ہے اور "نظم” کا مطلب معنویت کے لحاظ سے کلام کا خوب منظم ہونا ہے ، اگر اس توجیہ کی تصویب کی جائے تو "نثری نظم” کہنے والوں کی بات بھی لائق التفات ہے۔ 🙂

واللہ اعلم بالصواب وعلمہ اتم و نحن لاسیما بی من الجھلاء ، سبحانہ لا علم لنا الا ما علمنا ، انہ ھو العلیم الحکیم۔

طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

تبصرہ کریں

Discover more from مکتب علوم شریعت

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

پڑھنا جاری رکھیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں