مثال:
تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی، مرا رنگ زرد تھا
(غالب)
۔ ۔ ۔
معاد: پہلے مصرع کا آخری حصہ دوسرے مصرع کے شروع میں ہو۔
مثال:
یہ کعبۂ اربابِ یقیں عرش نشیں ہے
یہ عرش نشیں ، مُہرِ نبوت کا نگیں ہے
(انیس)
۔ ۔ ۔
تکرار: شعر میں کوئی لفظ مکرر آئے ، خواہ کہیں بھی ہو۔
مثال:
تھا سراپا روح تو ، بزم سخن پیکر ترا
زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
(اقبال)
۔ ۔ ۔
تعاکُس: پہلے مصرع کے الفاظ ترتیب بدل کر دوسرے مصرع میں آئیں۔
مثال:
دل صاف ہو کس طرح کہ انصاف نہیں ہے
انصاف ہو کس طرح کہ دل صاف نہیں ہے
(دبیر)
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
