اصل لفظ "صحیح” ہی ہے ، اسے بدل کر ایک لفظ "سہی” بھی بنالیا گیا ، دونوں قریب المعنی ہیں ، مگر محل استعمال میں فرق ہے۔
جہاں صرف کسی چیز کی درستی بیان کرنی ہو وہاں "صحیح” استعمال کرتے ہیں۔
جہاں بات میں زور دینا ہو ، یا تقابل ہو یا گزارے کو بیان کرنا ہو تو ایسے مواقع پر "سہی” کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔
مثلا:
یہ بات صحیح نہیں ہے۔
یہ صحیح نہیں ہے۔
اب صحیح سمجھ میں آیا۔
صحیح البخاری
ان میں سے کسی بھی جگہ "سہی” لانا صحیح نہیں۔
اب یہ مثالیں دیکھیے:
ایسا ہے تو یوں ہی سہی
تم آؤ تو سہی
ابھی نہیں ، پھر سہی
ان جگہوں پر "سہی” آئے گا۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرؔسَری
