یہ چاروں الفاظ مترادف ہیں ، مگر جیسا کہ ضابطہ ہے کہ ہر دو مترادف میں کچھ نہ کچھ فرق بہرحال ہوتا ہی ہے ، ان چار الفاظ میں بھی خفیف سا فرق ہوگا۔
اس بارے میں اپنی تفصیلی گزارشات پیش کرنے سے پہلے میں گمنام ادیب محترم عمران احمد خان صاحب کا وہ مضمون لفظ بہ لفظ پیش کرنے کی جسارت کروں گا جو اس مضمون کا محرّک بنا ہے۔
موصوف اپنے مخصوص رواں اور دل پذیر اسلوب میں کچھ یوں خامہ فرسا ہیں:
//عمر، زندگی اور حیات کو ایک ہی معنی دیا جاتا ہے ۔ جبکہ میرے نزدیک (گو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا، ذاتی خیال ہے بس) دنیا میں پڑاؤ کو تین ڈھنگ سے دیکھا جا سکتا ہے۔
ایک کہ میں نے بس "عمر” ہی کاٹی۔ نہ آنے کا پوچھا گیا نہ جانے پراستفسار۔ جیسے تیسے گزار دی اور نکل لیا۔ کسی بھی ذمہ داری کو خاطر خواہ نبھا نہ سکا۔ لوگوں کو مجھ سے اور مجھے لوگوں سے شکوے ہی رہے۔ اپنے پیدا ہونے کو کوستا رہا۔
دوسرا جو "زندگی” گزارنا بنا۔ ایک کامیاب زندگی جہاں جس چیز کی تمنا کی، پا لی۔ ماں باپ، بہن بھائی اور بیوی بچے سب کے حقوق احسن انداز میں ادا کیے۔ دولت کے انبار لگا دیے۔ مگر پھر بھی جس خاموشی سے آیا تھا اسی خاموشی سے چلا گیا۔
اب تیسرا ڈھنگ "حیات” کا پانا ٹھہرا۔ جبتک زندہ رہا ہلچل مچاتا رہا ۔ مجھ سے نہ صرف قریبی احباب بلکہ ایک عالَم مستفید ہوا۔ بھلے وہ خدمت تھی یا کچھ اور انوکھا مگر اپنی شناخت جادواں کر بیٹھا۔ مجھے مرنے کے بعد زمانے نے زیادہ شدت سے یاد رکھا۔
افسوس کہ ان قطعی مختلف اطوارکو ہم ایک ہی لکڑی سے ہانک دیتے ہیں۔//
"عمر” ، "زندگی” اور "حیات” کے فرق پر مشتمل محترم عمران احمد صاحب کا یہ پرمغز انشائیہ پڑھ کر دل خوش ہوگیا ، کس قدر خوب صورتی سے انھوں نے عمر کاٹنا، زندگی گزارنا اور حیات کا پانا تحریر کیا ہے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
جیون ، عمر ، زندگی اور حیات میں ایک فرق تو اصل زبان کے لحاظ سے ہے۔
"زندگی” فارسی الاصل ہے ، "زیست” ، "زندہ” اور "زندگانی” وغیرہ اسی سے ہیں۔
"عمر” عربی الاصل ہے۔ "عامر”، "معمور” ، "معمّر” ، "عمران”، "عمار” ، "عمارہ”، "معمار” ، "استعمار”اور "تعمیر”وغیرہ اسی سے ہیں۔
"حیات” بھی عربی الاصل ہیں۔ "حی”، "اِحیاء” ، "اَحیاء”، "محی الدین” ، "حیوان”، "یحیٰی” ، "محیا” اور "حیاتیات” وغیرہ اسی سے ہیں۔
جبکہ "جیون” ہندی ہے ، "جینا” ، "جیوے” ، "جیے” اور "جیتے رہو” وغیرہ اسی سے ہیں۔
لسانیاتی پس منظر میں دیکھا جائے تو "زندگی” کی ضد "مرگ” ہے ، "عمر” اور "جیون” کا تعلق "زندگی” کے دورانیے سے ہے اور "حیات” کے مقابل "موت” اور "ممات” مستعمل ہیں۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب کچھ اشعار میں ان الفاظ کے معانی اور استعمالی پہلو ملاحظہ فرمائیے:
لفظ "عمر”:
عمر دراز، مانگ کے لائی تھی چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے دو انتظار میں
(سیماب اکبر آبادی)
[اس شعر کا پہلا مصرع "عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن” مشہور ہے اور شاعر کہیں ظفر ، کہیں درد، کہیں اقبال اور کہیں حالی کو قرار دیا گیا ہے ،حقیقتِ حال تو اللہ ہی جانے۔]
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
لفظ "جیون”:
اپنی بیتی جگ بیتی ہے جب سے دِل نے جان لیا
ہنستے ہنستے جیون بیتا، رونا دھونا بُھول گیا
(میراجی)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
لفظ "زندگی”:
میری تنخواہ کیجے ماہ بہ ماہ
تا، نہ ہو مجھ کو زندگی دُشوار
(غالب)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
لفظ "حیات”
زندگی قطرے کی سکھلاتی ہے اسرارِ حیات
یہ کبھی گوہر ، کبھی شبنم ، کبھی آنسو ہوا
(اقبال)
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اب ذرا ان کی معنویات ملاحظہ فرمائیے:
خدائے حی و قیوم نے ہر انسان کو "عمر عزیز” عطا فرمائی ہے، اب انسان کی مرضی ہے کہ وہ اسے کاٹے (یعنی کچھ نہ کرے تب بھی عمر تو کٹ ہی جائے گی) یا اسے اپنا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھ کر جیے ، اسی "جینے” کو فارسی میں "زندگی” کہتے ہیں اور گہرائی میں جاکر دیکھیں تو فارسی مصدر ہے "زیستن” جس کا ترجمہ ہے "جینا”، اس سے اسم فاعل ہے "زندہ” یعنی "جینے والا” ، پھر اس "زندہ” کے آخر میں "ی” بڑھا کر دوبارہ اس اسم فاعل کو مصدر بنایا ، یعنی "زندگی” کا ترجمہ محض "جینا” نہیں ہے بلکہ "جینے والا ہونا” ہے ، ایک شخص اپنی عمر کو اس طرح گزارے کہ اس سے خود بھی فائدہ اٹھائے ، اپنے متعلقین اور اہل خانہ کی زندگی بھی اچھی کرنے کی کوشش کرے تو کہا جاسکتا ہے کہ یہ شخص جی رہا ہے یعنی اس نے اپنی "عمر” کو "زندگی” بنادیا ہے۔
پھر یہ "زندگی” تو انسانوں کی طرح اور جان دار مخلوقات میں بھی پائی جاتی ہے ، چرند ، پرند اور درندے سبھی اپنی زندگی برقرار رکھنے کے لیے محنت کرتے ہیں، اپنے کھانے پینے اور رہائش کا بھی بندوبست کرتے ہیں اور اپنی فیملی کے لیے بھی سہولیات فراہم کرتے ہیں، اسی لیے انھیں "حیوان” کہا جاتا ہے ان میں "زندگی” کی یہ تمام تر رونقیں پائی جاتی ہیں، تفصیلات کے لیے "حیاۃ الحیوان” جیسی ضخیم کتب کافی و شافی ہیں۔
اس زندگی کو قرآن کریم مطلقا "الحیاۃ” کے بجائے "الحیاۃ الدنیا” سے تعبیر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ تو بس ایک کھیل کود ہے ۔
اگر انسان کو اس زندگی سے پیار ہوجائے وہ سیکڑوں ہزاروں سال جینے کی تمنائیں کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
{وَلَتَجِدَنَّهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَىٰ حَيَاةٍ وَمِنَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا ۚ يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ يُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ } [البقرة: 96]
ترجمہ: تم انھیں اور لوگوں سے زیادہ زندگی کے حریص دیکھو گے، یہاں تک کہ مشرکوں سے بھی۔ ان میں سے ہر ایک یہی خواہش کرتا ہے کہ کاش وہ ہزار برس کی عمرپائے۔
اگر اس دنیاوی زندگی کو انسان صرف خواہشات کی تکمیل تک محدود نہ رکھے بلکہ خالقِ موت و حیات کی رضامندی کو ملحوظ رکھتے ہوئے زندگی گزارے ،اس میں اپنا خیال رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا بھی شامل ہے خواہ یہ افادہ دینی ہو یا دنیاوی، مالی ہو یا جسمانی ، تو ایسے لوگوں کے بارے میں ہم کہہ سکتے ہیں انھوں نے "عمر عزیز” کو "حیات” کا درجہ دے کر "زندگی” بسر کی ہے۔
چنانچہ جس طرح اپنی راہ میں جان و مال سب کچھ داؤ پر لگانے والوں کو اللہ تعالیٰ نے "اَحیاء” قرار دیا ہے ویسے ہی اللہ رب العزت نافرمان مشرک بندوں کو "غیر احیاء” بھی فرمارہے ہیں۔
ملاحظہ فرمائیۓ:
{وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ } [آل عمران: 169]
{وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ ، أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءٍ} [النحل: 19 – 21]
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
محض طویل العمری عزت افزا نہیں ہے ، ورنہ ابلیس اس دنیا میں سب سے لمبی عمر والا ہے ، مگر اس کی زندگی کا مقصد انسانیت کو نقصان پہنچانا ہے ، اس کے بالمقابل صرف تیئیس سال محنت کرنے والی ہستی کو خالقِ انسانیت نے رحمۃ للعالمین کے لقب سے نوازا ہے جبکہ تمام انسانوں (بشمول غیر مسلمین) کا اتفاق ہے کہ کائنات میں "محمد عربی” صلی اللہ علیہ وسلم جیسی بااثر شخصیت کوئی نہیں گزری، وجہ یہی تھی کہ حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ بابرکات سے اللہ کی مخلوق کو جتنا فائدہ پہنچا ہے ساری مخلوق میں اس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ 🙂
یعنی اصل حیات والے وہ لوگ ہیں جو دوسروں کے کام آتے ہیں ، ایسے لوگ جب تک زندہ رہتے ہیں تب تک زندگیاں بانٹتے ہیں اور جب مرتے ہیں تو "اَمَر” ہوجاتے ہیں۔ جعلنا اللہ منھم۔
دوسری طرف قیامت تک نہ مرنے والا (ابلیس) مردہ لوگوں کا سردار ہے یعنی سب سے بڑا مردہ ہے، کیونکہ اس کی زندگی سب سے زیادہ دوسروں کو نقصان پہنچانے میں گزرتی ہے۔ اعاذنا اللہ من شرہ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
خلاصۂ کلام:
"عمر” تو سب گزارتے ہیں ، اگر خود کو اور متعلقین کو فائدہ پہنچا کر گزاری جائے تو یہ "زندگی” ہے اور اگر مالک حقیقی کو راضی کرتے ہوئے اور اس کی مخلوق کو فائدہ پہنچانے میں "جیون” کو بسر کیا جائے تو یہ "حیات” ہے.
وضاحت:
زندگی اور اس کے تمام مترادفات اردو ادب میں اب تک بلاقیدِ معانی مستعمل رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے، اس عموم پر تنقید ہرگز مقصود نہیں، بلکہ ان الفاظ کی باریکی میں جانے کے بہانے جینے کے مختلف بہانے ڈھونڈنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 🙂
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری
