دیوان اور کلیات میں فرق

دیوان” اور "کلیات” مجموعۂ شاعری کے لحاظ سے دونوں مترادف ہیں ، یعنی کسی شاعر کے مجموعۂ کلام کو دیوان بھی کہہ سکتے ہیں اور کلیات بھی۔

مگر عام طور پر "دیوان” اس مجموعۂ منظومات کو کہا جاتا ہے جس میں حروف تہجی کی ترتیب پر غزلوں کو جمع کیا گیا ہو ، اگرچہ آخر میں نظمیں اور رباعیات وغیرہ بھی شامل کردی جائیں ، جیسے "دیوانِ غالب” کہ اس میں ابتداءً تمام غزلیں ردیف کے آخری حرف کے لحاظ سے الفبائی ترتیب کے مطابق ہیں ، پھر قصائد ، پھر مثنوی ، پھر خمسہ ، پھر مرثیہ ، پھر سہرے ، پھر قطعات ، پھر رباعیات اور آخر میں متفرقات ہیں۔

اور "کلیات” کسی شاعر کی متعدد کتب کے مجموعے کو کہتے ہیں جیسے "کلیاتِ اقبال” جو کہ اقبال کی چار تصنیفوں "بانگِ درا” ، "ضربِ کلیم” ، "بالِ جبریل” اور "ارمغانِ حجاز” کا مجموعہ ہے۔

بالفاظ دیگر "دیوان” اور "کلیات” میں دو فرق ہیں:

(1) "دیوان” کسی شاعر کا ایک مجموعۂ کلام ہوتا ہے جبکہ کلیات میں ایک سے زیادہ مجموعے ہوتے ہیں۔

(2) "دیوان” صرف شاعری کے مجموعے کو کہتے ہیں جبکہ "کلیات” شاعری کے علاوہ دیگر تصانیف کے مجموعے کو بھی کہا جاتا ہے۔
طالبِ دعا:
محمد اسامہ سَرسَری

تبصرہ کریں

Discover more from مکتب علوم شریعت

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

پڑھنا جاری رکھیں

Design a site like this with WordPress.com
شروع کریں